514

انسان ،عقل،اختیار اور بے بسی – قاضی فضل اللہ

انسان اشرف المخلوقات ہے کہ اس کے لئے کائنات کی تسخیر کی گئی ہے اور یہ عقل کی اساس پر کی گئی ہے کہ اس کو اللہ نے عقل سے نوازا ہے اور عقل محض تو فرشتوں کو بھی دی گئی ہے لیکن ان میں خواہش کی مقابل قوت نہیں تو نہ تو ان کو مادیات اور مادہ کی ضرورت ہے نہ ان کے لئے اس کی تسخیر کی ضرورت ہے اور جب مقابلہ کی نوبت نہیں تو پھر ان کے عقل میں استخراج واستنباط کی قوت بھی نہیں اور ان کا علم بھی نہیں پھیلتا کہ انہیں نہ تو تحقیق کرنی ہے نہ ریسرچ کرنا ہے اور نہ ہی ایجادات واجتہادات کرنے ہیں۔اب انسان جو ایک شاہکار تخلیق ہے اس کیلئے کائنات کی تسخیر جو کی گئی ہے تو انسان کو فعلیت اور کائنات کو ان کے لئے انفعالیت کی صفت سے نوازااور اس فعل وانفعال کے لئے جو ضوابط وقواعد تخلیق کئے ان ضوابط وقواعد کو قوانین فطرت یا طبیعات کے قوانین کا نام دیا گیا اور یوں طبعی زندگی ان قوانین کے متعلق چلتی بھی ہے اور آگے بڑھتی بھی ہے اور فطرت میں ارتقا ء ہے تو آئے دن آگے بڑھنے کی جدوجہد انسان کے خمیر میں ہے ۔اس کے لئے انسان کو تدبیرات کا مکلف بنایا گیا کہ وہ تدبیرات کرے گا اور جس کی تدبیر کامیاب ہو وہ مقلد بنے گا دوسرے اس چیزمیں اس کی تقلید کریں گے ۔مثلا ًیہ کہ ساری دنیا اور اس کے سائنس دان لگے ہوئے ہیں کورونا کے لئے ویکسین بنانے کی جدوجہد کررہے ہیں اب جس نے بھی ایجادکی وہ لیڈر بن گیا اس میدان کا اور پھر جہاں جہاں بھی وہی ویکسین بنائی جائے اس کو رائلٹی ملتی رہے گی ۔یہ آج کی دنیا کا اصل قانون ہے اگر چہ عموماً ایسے لوگ ان اموال کو پھر تعلیم ،صحت اور دیگر فلاحی کاموں میں لگالیتے ہیں لیکن اس کی رائلٹی کلیم کرنے کے ذریعے وہ اپنے نام کو محفوظ کرجاتاہے اور انسان فطری طور پر عزت کا طالب تو ہوتا ہی ہے لیکن اسی عقل کا ایک اور تقاضا ہے اوروہی اساسی ہے اور وہ ہے اس ذات کو پہچاننا جس نے کہ اسے پیدا کرکے اس کو اس سے نوازا ہے اور پہچان کا معنی ہوتا ہے اس ذات کے احکام ماننا ،اس کی اطاعت کرنااور یہ متقاضی ہے اس کے کہ اس ذات پر عقیدہ رکھے ۔اب کسی چیز پر عقیدہ رکھنا بھی انسان کی فطرت میں ہے ۔یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ عقیدہ رکھتا کس چیز پر ہے یعنی فطری طور پر انسان کسی نہ کسی چیز کو مذہب بنادیتا ہے ۔اب اس کے دو پہلو ہیں۔ایک روحانی اور دوسرا مادیت بعض لوگ کسی روحانی قوت پر عقیدہ رکھ جاتے ہیں اگر چہ یہ تصور اور تعلیم آسمانی اور الہامی نہ ہو یا اصلا ًاگر ہو بھی تو اس کا حلیہ بگاڑ دیا گیا ہو تو وہ غلطی کا ارتکاب کرجاتا ہے ۔تو کبھی جنات اور شیاطین کو خدا بنادیتے ہیں، کبھی فرشتوں کو ،کبھی ارواح کو اور کبھی اجرام فلکیہ کواور بسا اوقات تو کسی مادی وجود کے کسی فعل اور قوت کو روحانیت سمجھ لیتے ہیں تو اس کی پوجا شروع کرتے ہیں مثلا ًشیر کی قوت ،سانپ کے زہر کے مروانے کی طاقت یا کسی بھی مخلوق کے ان انسانوں کے عقل سے ماورا کوئی فعل اگر چہ کبھی کبھار وہ افسانے ہوتے ہیں۔بلکہ انسانوں سے ایسا کچھ دیکھ لیتے ہیں یا گھڑا ہو سن لیتے ہیں تو ان کو مشکل کشا سمجھ لیتے ہیں ،ان کی مورتیاں بناکر ان کی پوجا شروع کردیتے ہیں ۔شرک کی داستان بڑ ی طویل ہے۔اس طرح انسان کبھی خواہشات کو مذہب اور خدا کا مقام دے دیتے ہیں ۔افرایت من اتخذ الھہ ہواہ افانت تکون علیہ وکیلا(الفرقان)سو کیا تم نے دیکھا ہے اس بندے کو جس نے کہ بنایا معبود اپنا خواہش ان کو سو پھر کیا تم اس کے وکیل(ذمہ دار)ہوسکتے ہو۔افرایت من اتخذ الہہ ہواہ واضلہ اللہ علی علم(الجاثیہ)سو کیا تم نے دیکھا ہے اس شخص جس نے کہ بنایا ہو معبود اپنا خواہش اپنے کو اور گمراہ کیا ہو اسے اللہ نے علم(عقل)کے باوجود۔اب مدتوں لوگ سرمایہ دارانہ نظام کے جبر کو مسلط کرتے رہے بغیر کسی حقوق کے وہ نظام کیا تھا خواہشات پر مبنی ۔اور ایسا کہ اس کے علم بردار اس پر مذہب کے حد تک عقیدہ رکھتے تھے پھر مقابلے پر سوشلزم اور کمیونزم آیا۔ردعمل تھا لیکن تھا کیا؟خواہش،یعنی مادہ اور مادیات کے میدان سے متعلق تھا لا تعلقی تو نہ تھی ۔صرف یہ تھا کہ سرپلس ویلیو پر زیادہ حق کس کا ہے اور چونکہ بظاہر یہ مزدور کی بات کررہا تھا اگر چہ مزدور کی حالت اس میں سرمایہ دارانہ نظام سے کم ابتر نہ تھی لیکن اس کے علمبردار بھی اس پر مذہب کے حد تک عقیدہ رکھتے تھے۔اب جو لبرل ازم کا غلغلہ ہے اس کے علم بردار اس پر بھی مذہب کے حد تک عقیدہ رکھتے ہیں اور بعینہ یہی معاملہ فاشزم اور اس کے علمبر داروں کا تھا اور سیکولرازم تو ان سب کی بنیاد یا میدان ہے کہ ان میں سے بعض نظام تو کہتے ہیں کہ مذہب کو اجتماعی معاملات اور سیاسی ومعاشی ومعاشرتی معاملات میں دخیل نہیں بنانا۔پھر ساتھ یہ بھی کہ کسی کے شخصی معاملات میں کسی نے دخل نہ دینا ۔توکسی ہوشیاری سے مذہب کو دیس بدر کردیتے ہیں۔پھر بہت سارے لوگوں کا عقیدہ ہے فلسفہ پر اور بہت ساروں کا سائنس پر جو بھی فلسفہ ہے لیکن اس کی عملی شکل ہے کہ فلسفہ جواب ڈھونڈتا ہے Whyیعنی کیوں ایسا ہے کااور سائنس جواب ڈھونڈتا ہے Howیعنی کیسے ہے کاکہ جب وہ یہ ڈھونڈ نکالتے ہیں تو اس کا تجزیہ کرکے ایک فارمولا نکالتے ہیں اور پھر اس فارمولے کو اپلائی کرکے چیز بنالیتے ہیں ۔یعنی فلسفہ ماضی کی کرید کرتا ہے کیوں کے جواب کے حوالے سے اور سائنس بھی ماضی کا کرید کرتا ہے کیسے ہے کے جواب کے حوالے سے ۔لیکن ساتھ ساتھ وہ مستقبل میں ایجاد کا راستہ بھی نکال لیتا ہے اور ایجادات سے تو چونکہ مادیات کی دنیا میں فائدہ اور آسانی ملتی ہے لہذا بہ نسبت اور کے اس سے متاثر ہونے کی شرح زیادہ بھی ہے اور شدید بھی ہے اور یوں سائنس سے شدید متاثر لوگ مذہب کو زیادہ اہم تو کیا اس کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے ۔اور یوں سائنس پر اس قسم کے عقیدہ نے اس کو مذہب اور خدا کے مقام پر لاکھڑا کردیا ہے معاذاللہ!ایسے میں اخلاقیات کی بات اور اخلاقیات کا تصور عجیب سا لگتا ہے کیونکہ اخلاقیات تو اپنی فطرت میں تصور ہی ہے مذہب کا کہ اخلاقیات اساسا مادی چیز نہیں روحانی چیز ہے ۔یہ انسان کے داخل سے تعلق رکھتے ہیں اگر چہ اثر ان کا خارج پر ظاہر ہوتا ہے ۔مادیات سے متاثر اور سائنس سے شدید متاثر لوگوں نے تو مغرب میں باقاعدہ ایک انداز مذہب اختیار کیا ہے ان کا چرچ بھی Sein Tologyکہلاتا ہے کہ سائنس اصل ہے یعنی جس چیز کو سائنس مانے وہ صحیح ہے ورنہ غلط۔اب عجیب بات ہے سائنس کا تو میدان اور موضوع ہی ہے مادہ ۔اس کا تو روح سے تعلق ہی نہیں اور سچی بات یہ ہے کہ ان لوگوں میں کوئی سائنس دان نہیں ہوتا سائنس زدگان ہوتے ہیں ۔یوں یہ مدعی سست اور گواہ چست بلکہ اس سے بھی گیا گزرا تصور ہے کہ انہوں نے توکبھی یہ دعویٰ ٰکیا ہی نہیں ۔
اس لئے کہ یہ ان کا موضوع نہیں نہ نفیا اور نہ اثباتااور نہ ان کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ ان بحثوں میں پڑھیں ان کا اپنا ایک فیلڈ اور میدان ہے اور وہ اس میں لگے ہیں۔اب اخلاقیات مذہب کے اساس پر دائمی اور مطلق ہیں یعنی Objectiveآبجیکٹو۔یہ اضافی یعنی Relativeنہیں کہ وقت کے ساتھ بدلیں یا جگہ اور منطقہ کے ساتھ بدلیں ۔اب مذہب نے جس کو حلال کیا ہے وہ حلال ہے ہر وقت اورہر جگہ اور جس کو حرام کہا وہ حرام ہے ہر جگہ اور ہروقت۔اور پوری دنیا کو بھی حق نہیں کہ ان کی حیثیت کو تبدیل کردے۔مغرب والوں نے سب سے پہلے مذہب کو دیس سے نکالا کردیا جب ان کو ضرورت پڑتی ہے تو پھر اس کو وقتی طور پر نکال لیتے ہیں جس طرح کہ سردی پڑتی ہے تو گرم کپڑوں کی ضرورت پڑتی ہے اور ہم وہ نکال لیتے ہیں۔اس لئے عیسائیت اور یہودیت میں ان کے رہبان اور احباران کے لئے وقتاً فوقتا ًحلال اور حرام میں تبدیلی لے آتے ہیں ۔انہوں نے احبار اور رہبان کو ارباب بنایا ہے۔اتخذوا احبارہم ورہبانہم اربابا من دون اللہ اب ارباب جمع ہے رب کی اور رب کا معنی ہے مالک ۔لیکن حضرت عدی بن حاتم نے رسول پاکۖ سے پوچھا یا رسول اللہ!ہم عیسائی تو اپنے رہبان کو رب نہیں کہتے تھے ؟تو آپ ۖ نے فرمایا کیا وہ لوگ تمہارے لئے حرام کو حلال اور حلال کو حرام نہیں بناتے؟فرمایا ہاں یہ تو ہے ۔تو آپ ۖ نے فرمایا یہی کام تو رب کا ہے ۔یعنی آپۖ نے رب کو شارع کے معنی میں ذکر کیا۔تواخلاقیات میں سے اصول اخلاق عالمی اور آفاقی ہیں اور جب تک ان کو اس تصور میں نہیں اپنایا جاتا تو دنیائے انسانیت میں انسانیت نہیں آسکتی ۔یعنی ساری دنیا کو انفرادی اور اجتماعی اخلاقی ذمہ داری کو زندہ رکھنا ہے ۔یہی انسانیت ہے اور انسانوں کی دنیا میں انسان بن کے رہنا ہے ۔پھر اس کے بعد جن کے اپنے مذاہب ہیں ،کلچرز ہیں ،رواج اور رسوم ہیں وہ کرتے رہیں لیکن وہ اصول اخلاقیات کے منافی نہ ہو اس کے بغیر انسانی ترقی جو سائنس کے اساس پر ہوتی ہے تو وہ تو انسانوں کو روبوٹ بنادے گی اور جس طرح روبوٹ انسان نہیں بن سکتا تو اس طرح انسان کو بھی روبوٹ نہیں بنانا اگر چہ سائنس کی تو اتنی ترقی ہوئی ہے کہ آج روبوٹس سے بہت سے کام لیے جاتے ہیں ۔ایک سمارٹ اوون بنایا گیا اس میں کسی بھی کھانے کی ریسیپی فیڈ کی جائے اور پھر اس میں اس کے کچے اجزا ڈال دئے جائیں تووہ مقررہ وقت میں مطلوب کھانا تیار کردیگی ۔بعض ریستورانوں میں روبوٹ ہی آکر آرڈر لے لیتا ہے اور پھر کھانا لے آتا ہے ۔کہتے ہیں کہ اب بعض چینلز پر روبوٹ ہی خبریں پڑھیں گے ۔کارٹونز کی شکل میں یہ سب کچھ ہو تورہا ہے ہے ۔بہر تقدیر وہ انسان نہیں بن سکتے ۔اس طرح انسانوں کو بھی روبوٹ نہیں بنانا ہے۔کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ طبیعیات اور سائنس کے میدان میں ایک کام یا ایجاد ہوا تو انہوں نے اس سے اللہ کی تدبیر وتقدیر کی مکمل نفی کی حالانکہ طبیعیات کے قانون اللہ کے وضع کردہ تدبیر ہے اور اس پر نتیجہ اللہ کی تقدیر ہے کہ انسان کی فعلیت اور متعلقہ اشیا کی انفعالیت اللہ کی تدبیر اور اس پر نتیجہ اللہ کی تقدیر ہے ۔دوسری جانب ایسے لوگ ہیں جو بزعم خود بڑیمتوکل اور فنافی اللہ کے دعویدار بن کے عقیدے کی بات ایسے کرتے ہیں جیسا کہ اللہ نے نہ تو کائنات بنائے ہوں نہ طبیعیات اور اس کے قوانین وضع کیے ہوں اور نہ وہ مدبر ہو حالانکہ قرآن کریم فرماتا ہے امن یدبر الامر فسیقولون اللہ مشرکین مکہ کے متعلق بھی اللہ نے فرمایا کہ کون امور(معاملات)کی تدبیر کرتا ہے تو وہ بھی کہیں گے یا کہتے ہیں کہ اللہ۔تو پھر کیوں ہم نے خلق اور خالق کو ایک دوسرے کی ضد اور مقابلے پر لاکھڑا کردیا ہے؟جیسا کہ اللہ نے نہ تو کائنات پیدا کیے ہیں اور نہ اس کی تدبیر اور طبیعیات اور اس کے قوانین سے اس کا کوئی تعلق ہے ۔اس سے تو تسخیر کے تصور کی جو قرآن کریم میں بیسیوں جگہوں پر ذکر ہے اس کی نفی ہوتی ہے ۔یا یہ کہ اس نے خلق تو کیا اور پھر مخلوق کو آگے پاس اوور کیا جیسے مینو فیکچرنگ کمپنی نے گاڑی بنائی آگے فروخت کی اور اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں رہا۔خدا تصور نہیں حقیقت ہے فنگشن ریالٹی Function Realityہے ۔بیدہ الملک وہو علی کل شء قدیر الا لہ الخلق والامرخلق اور امر یعنی کائنات کی تخلیق اور اس کا چلانا اسی کا ہے وہ اس سے لا تعلق نہیں۔ان سب چیزوں کی ایک ہی وجہ ہے کہ ہمارے فکر اور عمل دونوں کا محرک ومقصد آخرت نہیں دنیا ہے جبکہ اس وائرس اور تاحال اس کی حقیقت سے شناسائی نہ ہونے اور پھر بمع اینکہ ساری دنیا لگی ہوئی ہے علاج دریافت کرنے اور ویکسین بنانے کی تگ ودو میں لیکن تاحال کچھ بھی نہ ہوسکا۔ہوجائے گا لیکن کب؟جب خدا چاہے ۔وائرس کے حوالے سے عام تو کیا سائنس دانوں کے متضاد بیانات کہ قدرتی ہے کہ مصنوعی ہے ،اس کی جنیٹکل انجینئرنگ کی گئی ہے یا نہیں،یہ لیک ہوا ہے یا لیک کیا گیا وغیرہ وغیرہ اتنے بیانات کہ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئییہ ماہرین کے بیانات ہیں ۔علاج کے حوالے سے اتنے تجاویز اور ادویہ کہ ایک کہے یہ علاج ہے ،دوسرا کہتا ہے یہ ہلاکت ہے ۔ویکسین کے حوالے سے کہ قریب ہے تین مہینے لے گا ،چھ لے گا ،سال لے گا ،دس سال لے گا کبھی نہ بن سکے گا ۔زندگی کے ساتھ رہے گا یا فطری طور پر ختم ہوجائے گا ،ایسے موسم میں نہیں رہ سکتا گرمی کو ختم ہوگا ،گرمی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔اس نے ثابت کیا کہ انسان عقل رکھتا ہے اختیار بھی رکھتا ہے لیکن نہ تو ناقابل تسخیر ہے اور نہ بے بسی سے نکل آیا ہے اور ثابت ہوا کہ واللہ غنی وانتم الفقراصرف اللہ ہی بے نیاز(بے حاجت)ہے اورتم اللہ کے محتاج ہو ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں