351

کلبھوشن کی سزا پر نظر ثانی کا بل منظور کرلیا

 اپوزیشن کی جانب سے سخت مزاحمت کے باوجود قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے فوجی عدالت سے جاسوسی اور دہشت گردی پر سزائے موت پانے والے بھارتی جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو کی سزا پر نظر ثانی سے متعلق حکومتی بل کی منظوری دے دی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق بل کی مخالفت کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ایف) نے بل کو بھارتی جاسوس کے لیے این آر او قرار دیا تھا۔

خیال رہے کہ این آر او فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے جلا وطن سیاسی قیادت کو دیے گئے قومی مصالحتی آرڈیننس کا مخفف ہے جس کے تحت سیاستدانوں کے خلاف احتساب کے مقدمات ختم کردیے گئے تھے۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اور انصاف فروغ نسیم نے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (ریویو اینڈ ری کنسڈریشن) آرڈیننس پر اپوزیشن کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسے عالمی عدالت انصاف کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے متعارف کروایا گیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پارلیمان میں بل منظور نہ ہوا تو عالمی عدالت انصاف کے حکم کی تعمیل نہ کرنے پر پاکستان کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس موقع پر جے یو آئی ایف کی رکن اسمبلی عالیہ کامران نے کہا کہ ’آپ نے (ملک کی) اسٹیبلشمنٹ کو گمراہ کیا ہے، ہم یہاں بھارتی جاسوس کے لیے قانون سازی کرنے نہیں بیٹھے، اس بل کو (عوامی بحث کے لیے) عوام اور بار ایسوسی ایشنز کے سامنے پیش کیا جانا چاہیئے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’قانون سازی غیر ضروری ہے کیوں کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان ناصر الملک کہ چکے ہیں کہ آئینی عدالتیں فوجی عدالتوں کے فیصلوں پر نظر ثانی کرسکتی ہیں‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں