429

آخر یہ ظلم کب تک – صدف ابرار

دنیا بھر میں 26 جون کو تشدد کے متاثرین کی حمایت میں عالمی دن کے طور پر منایا گیا۔اس دن کے حوالے سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 12 دسمبر 1997 کو ایک قرار داد 52/149 منظور کروائی ۔ جسکا مقصد تشدد اور دیگر ظلم و بربریت ، غیر انسانی برتا ئویا سزا کے خلاف کنونشن کا سہارا لیتے ہوئے ایسے انسانیت سوز رویئے کے دنیا سے خاتمے کو ممکن بنانا تھا۔ اس عالمی ادارے کا اس بارے میں یہ کہناہے کہ تشدد یا اذیت دینا بین الاقوامی قوانین کے تحت ایک جرم ہے۔ اس پر پابندی لگائی جانی چاہیے اور کسی بھی حالت میں اس کا جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔اس حوالے سے اقوام متحدہ کے سکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس کے مطابق ”اذیت دینے والوں کو کبھی بھی ان کے جرائم سے دستبردار ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور تشدد کے نظاموں کو ختم یا تبدیل کیا جانا چاہیے۔دنیا بھر میں جہاں تشدد کے خلاف دن منایا جا رہا تھا وہیں دنیا کے کونے کونے سے تشدد زدہ آوازیں بھی بلند ہو رہی تھیں صوبہ خیبر پختونخوا کے دارلحکومت پشاور میں اسی دن اسمبلی کے سامنے پولیس کے منفی اور نازیبا رویئیکے خلاف احتجاجی مظاہرہ ہو رہا تھا جو پشاور کے علاقے تہکال سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان پر پولیس کی جانب سے کئے جانے والے شدید جسمانی تشدد کے بعد اسکو نیم برہنہ حالت میں ویڈیو وائرل کروانے پر عوام نے شدید غصے کا اظہار کر کے احتجاج مظاہرے شروع کر دیئے اور حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ پولیس کو وہی سزا دی جائے جو اس شہری کے ساتھ کیا گیا ہے۔پولیس کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کو منتشر کروانے کے لئے عوام پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا ۔لیکن عوام کا غم و غصہ کم نہ ہوااور انہوں نے بھی جوابی پتھرائو کیا۔جس کے نتیجے میں 6 پولیس اہلکار اور دو صحافی بھی زخمی ہوئے تاہم اس ویڈیو کے بعد سینئر پولیس آفیسر ظہور بابر آفریدی نے واقعے میں ملوث تین اہلکاروں کو معطل کیا اور انسپکٹر جنرل پولیس ثناء اللہ عباسی نے اسی روز ایس ایس پی کو بھی ان کے عہدے سے ہٹانے کا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے پولیس افسران پر مشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل دی اور اسی حوالے سے وزیر اعلیٰ کے مشیر اجمل وزیر کا بھی موقف سامنے آیا کہ”حکومت نے شہری پر تشدد کے واقعے کی ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں جوڈیشل انکوائری کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک ماہ کے اندر یہ رپورٹ پبلک کردی جائے گی۔ انکا کہنا تھا کہ انکوائری میں تمام گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوں گے۔ متاثرہ شہری کو مکمل انصاف فراہم کریں گے۔بات ہو رہی تھی تشدد کے خلاف عالمی دن کے حوالے سے جس پہ سب سے گہرا سایہ امریکہ کے اس سیاہ فام شہری کا بھی ہے جو ایک سفید فام پولیس کے ہاتھوں قتل ہوا تھا اور اسکے بعد امریکہ سمیت دنیا بھر میں احتجاجی مظاہروں نے جنم لیا جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ امریکی شہری جارج فلویڈ کے حق میں یہ مظاہرے اس بات کا بھی ثبوت ہیں کہ کوئی بھی معاشرہ تشدد اور ظلم سے پاک نہیںاور اسی کیس نے مختلف معاشروں میں پائے جانے والے اس احساس کو ایک بار پھر جگایا جس کو مختلف طریقوں سے دبا کر ختم کرنے کی کوشش ہو رہی تھی اور لوگوں کو ظلم سہنے کی ایک عادت سی پڑ گئی تھی۔ اس سال، تشدد کا نشانہ بننے والے افراد کی حمایت کے عالمی دن کے موقع پر سیاہ فام امریکی باشندے جارج فلوئیڈ کیس دراصل ایک عالمی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی موت جس طرح واقعے ہوئی، اس پورے عمل پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جارج فلوئیڈ کی گردن پر ایک امریکی پولیس افسر کا گھٹنا رکھنا اورچند منٹوں کے اندر اس کی زندگی کو موت میں بدل دینا انتہائی تشویش ناک بات ہے ۔ جس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کے مختلف معاشروں میں اس وقت بھی کمزور، مجبور، نادار بہت سارے لوگ ایسے ہیں جن کا دم جنگ و جارحیت، غربت، افلاس، جہالت، بیماریاں، وبائیں ، بھوک، جسمانی اور ذہنی اذیت کی وجہ سے گھٹتا ہے لیکن وہ بہ آواز بلند اس بات کا اظہار نہیں کر سکتے۔اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھی انسانی حقوق کی پامالی کے مرتکب بھارت کا بھی محاسبہ ہونا ضروری ہے جہاں پر نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے ،نوجوان ،خواتین ،بچے اور بوڑھے مسلسل ظلم اور جبر کا نشانہ بن رہے ہیں ،اسی طرح فلسطین ،شام اور عراق سمیت دنیا کے ہر کونے میں ظلم و ستم کا راج ہے۔جس کے تدارک کے لئے تمام بنی نوع انسان کو سوچ اسکے تدارک کے بارے میں سوچنا چاہئے۔کیونکہ یہی ظلم و تشدد کے خلاف عالمی دن کے طور پر منانے کا اصل مقصد ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں