اگرچہ تحقیقات ابھی ہونی ہیں،حقیقت سامنے آنی ہے، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا ہے لیکن آڈیو لیک ہونے کے بعد اجمل وزیر کی برطرفی کا واقعہ ایسے کئی سوال اپنے پیچھے چھوڑ گیا جن کے جوابات آنے میں شاید بہت دیر لگے، اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں ایسے واقعات کے پس پردہ محرکات بہت کم ہی سامنے آتے ہیں اور پھر تحریک انصاف کا تو خاصہ ہی یہی ہے کہ ہم کریں تو ڈانس، وہ کریں تو مجرا یعنی اپنی برائی تو ان کو کبھی نظر نہیں آتی۔ اس واقعے سے ایک اہم پہلو تو یہ سامنے آیا ہے کہ اجمل وزیر جو خود کو بہت عقلمند سمجھتے تھے اور مشیری کے زغم میں مبتلا ہونے کے بعد ان صحافیوں کے فون بھی اٹنڈ نہیں کرتے تھے جنہوں نے اس کو لیڈر بنایا اور جب اسے کوئی نہیں جانتا تھا تو یہ صحافی اسے اپنے ٹاک شوز میں بلاتے تھے اور کہا جاتاہے کہ عقلمند اور چالاک پرندہ جب پھنستا ہے تو دونوں ٹانگوں سے پھنستا ہے اوریہاں بھی ایسا ہی ہوا۔ وزیر مشیر اور سیاستدان جو کام اپنے ٹائوٹس اور دلالوں سے کرواتے ہیں اجمل وزیر صاحب وہ کام خود کرنے لگ گئے شاید کمیشن کے پیسوں میں وہ کسی کو بھی شریک نہیں بنانا چاہتے تھے اور اسیلئے بیچارے پھنس گیا۔ اس سکینڈل کا ایک اورا اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جب سے شوکت یوسفزئی کو ہٹا کر اجمل وزیر کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی اس کے بعد موصوف نے دن رات ایک کرکے کام کیا، کرونا وباء کے دوران روزانہ کی بنیاد پر پریس بریفنگ، ہسپتالوں بازاروں کے دورے، لوگوں کو ایس او پیز پر عملدرآمد کے لئے آمادہ کرنے، عرض وہ ہر محاذ پر سب سے آگے نظر آئے۔اس دوران پشاور کے صحافی بھی ان کے شانہ بشانہ رہے لیکن ان صحافیوں کے لئے اجمل وزیر نے جو الفاظ استعمال کئے اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ صحافی اگر صحافت چھوڑ کر کسی کے دربار میں جاکر بیٹھ جاتے ہیں اور ذاتی محفلوں میں صاحب اختیار لوگوں کی قربت حاصل کرنے کے لئے صحافت سے زیادہ چاپلوسی کرتے ہیں تو پھر ایسا ہے ہوتا ہے۔اس لئے ہم اکثر یہ بات کرتے ہیں کہ صحافیوں کو کسی بھی سیاستدان، بیوروکریٹ یا بااثر شخصیت کے ساتھ ایک فاصلے پر رہنا چاہئے لیکن یہاں ہمارے کچھ بھائی معاشرے میں اپنا اثر رسوخ قائم رکھنے یا خود کو اپنی برادری میں برتر ثابت کرنے کے لئے پھسل جاتے ہیں اور یہاں بھی ایسا ہوا۔ باعث شرم بات یہ ہے کہ اجمل وزیر کو لانے اور برطرف کروانے میں کچھ صحافی ہی ملوث ہیں۔
شوکت یوسفزئی کا امیج خراب کرنے والے بھی صحافی تھے اور اب آڈیو لیک اور بریک کرنے والے بھی صحافی ہیں تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صحافت کے اقدار اور معیار یہ ہیں؟اب اس واقعے کے بعد صحافیوں کو بھی اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہوگا۔اس واقعے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ مختلف حلقے اس کو ایک سابق وزیر کی سازش قرار دے رہے ہیں اور شاید اجمل وزیر سے انتقام لینے کے لئے ایسا کیا گیا۔
انتقام کی وجہ یہ تھی کے اجمل وزیر ایک غیر منتخب شخص کے طور پر پارٹی میں آئے اور پھر عمران خان کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہونے لگے ۔
اجمل وزیر کو بے پناہ مراعات بھی دی گئیں اور ان میں اس کے بھائی کو بغیر کسی پراسس کے گریڈ 19 میں بھرتی کرنا بھی شامل ہے اور یہی بات پارٹی اور کابینہ کے بہت سے لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہی تھی اور انھوں نے کچھ نہ کچھ کرنا تھا۔
اب حالات کا تقاضہ ہے کہ صاف اور شفاف انکوائری ہونی چاہئے اور اگر اجمل وزیر قصوروار نکلتے ہیں تو ان کو سزا کے ساتھ ساتھ اب تک دی گئی تمام مراعات کا حساب کتاب ہونا چاہئے اور انہیں دوسروں کے لئے باعث عبرت بنانا چاہئے اور اگر جس طرح اجمل وزیر کہتے ہیں کہ یہ ان کے خلاف سازش ہوئی ہے تو سازش کرنے والوں کو عوام کے سامنے لانا چاہئے تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ ان کے ووٹوں سے اقتدار میں آنے والوں کی ترجیحات کیاہیں اور ان کا اصل چہرہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خیبر یونین آف جرنلسٹس اور پشاور پریس کلب کو ان صحافیوں کے بارے میں بھی سوچنا ہوگا جو پوری صحافتی برادری کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے ذمہ دار ہیں، جو صحافی کم اور کسی سیاسی جماعت کے کارندے یا نمائندے زیادہ ہیں، ان سب کاموں میں تاخیر پہلے سے ڈانواڈول تحریک انصاف کی حکومت کو مذید بدنام اور کمزور کریگی اور پھر اپوزیشن کے اس مطالبے کو ایک اور جواز فراہم ہو جائے گاکہ ملک کی بقا اور غریب عوام کی بہتری اسی میں ہے کہ عمران خان سے جلد از جلد جان چھڑائی جائے۔