اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں اہم انتظامی عہدوں پر اساتذہ ایڈیشنل چارج پر تعینات ہونے کا سلسلہ تھم نہ سکا جسکے باعث یونیورسٹی میں مالی بحران سمیت انتظامی بحران بھی بڑھنے لگا جبکہ اساتذہ کے مابین گروپ بندیوں کا رجحان بھی بڑھ چکا ہے جس سے تاریخی ڈرسگاہ کی ساکھ بری طرح متاثر ہو کے رہہ گئی ہے
اسلامیہ کالج کے اہم انتظامی عہدوں پر مختلف شعبہ جات کے اساتذہ ایڈیشنل چارج پر تعینات ہے جسکے باعث مذکورہ اساتذہ کلاسز کے بجائے انتظامی ذمہ داریوں میں اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے لگے جو یونیورسٹی ایکٹ کے بھی خلاف ہے جبکہ گورنر خیبر پختونخوا کے احکامات کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے
گورنرخیبر پختونخوا کی جانب سے 2019میں اعلامیہ جاری کیا گیا تھا کہ انتظامی عہددوں پر ایڈیشنل چارج پر تعینات اساتذہ سے چارج واپس لیا جائے تاہم ابھی تک گورنر کے احکامات پر اسلامیہ کالج یونیورسٹی اور یگر یونیورسٹیز نے عمل درامد نہیں کیا گیا ہے جسکی وجہ سے یونیورسٹی میں انتظامی ،،تعلیمی اور دیگر مسائل بھی جنم لینے لگے ایڈیشنل چار ج سونپھنے سے یونیورسٹی میں گروپ بندیوں میں بھی اضافہ ہونے لگا ۔