200

اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں اہم انتظامی عہدوں پر اساتذہ ایڈیشنل چارج پر تعینات ہونے کا سلسلہ تھم نہ سکا


اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں اہم انتظامی عہدوں پر اساتذہ ایڈیشنل چارج پر تعینات ہونے کا سلسلہ تھم نہ سکا جسکے باعث یونیورسٹی میں مالی بحران سمیت انتظامی بحران بھی بڑھنے لگا جبکہ اساتذہ کے مابین گروپ بندیوں کا رجحان بھی بڑھ چکا ہے جس سے تاریخی ڈرسگاہ کی ساکھ بری طرح متاثر ہو کے رہہ گئی ہے

اسلامیہ کالج کے اہم انتظامی عہدوں پر مختلف شعبہ جات کے اساتذہ ایڈیشنل چارج پر تعینات ہے جسکے باعث مذکورہ اساتذہ کلاسز کے بجائے انتظامی ذمہ داریوں میں اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے لگے جو یونیورسٹی ایکٹ کے بھی خلاف ہے جبکہ گورنر خیبر پختونخوا کے احکامات کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے

گورنرخیبر پختونخوا کی جانب سے 2019میں اعلامیہ جاری کیا گیا تھا کہ انتظامی عہددوں پر ایڈیشنل چارج پر تعینات اساتذہ سے چارج واپس لیا جائے تاہم ابھی تک گورنر کے احکامات پر اسلامیہ کالج یونیورسٹی اور یگر یونیورسٹیز نے عمل درامد نہیں کیا گیا ہے جسکی وجہ سے یونیورسٹی میں انتظامی ،،تعلیمی اور دیگر مسائل بھی جنم لینے لگے ایڈیشنل چار ج سونپھنے سے یونیورسٹی میں گروپ بندیوں میں بھی اضافہ ہونے لگا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں