امریکی فوج14 ماہ میں افغانستان سے مکمل انخلاء کرے گی ،پہلے مرحلے میںساڑھے4 ہزار فوجی افغانستان سے نکالے جائیں گے، ساڑھے8ہزار فوجیوں کا انخلا ء امن معاہدے پر مرحلہ وار عملدرآمد سے مشروط ہوگا، افغان جیلوں میں قید5ہزار طالبان قیدی مرحلہ وار رہا کئے جائیں گے
افغان طالبان کی جانب سے ملاعبدالغنی برادر اور امریکا کی جانب سے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کے معاہدے پر دستخط ، تقریب میں پاکستان سمیت 50 ممالک کے وزرائے خارجہ کی شرکت، امن معاہدے کیلئے پاکستان کا کردار قابل تعریف ہے، ملا برادر، افغانستان کے لوگوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوگا، مائیک پومپیو
امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان پاکستان کی کوششوں سے 19 سالہ جنگ کے بعد تاریخی امن معاہدہ طے پا گیا،افغان طالبان کی جانب سے ملاعبدالغنی برادر اور امریکا کی جانب سے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے تاریخی معاہدے پر دستخط کئے، امن معاہدے کی تقریب میں پاکستان سمیت 50 ممالک کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے اس امن معاہدے میں طالبان کی جانب سے افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کی ضمانت دی گئی ہے جبکہ امریکی افواج کے بتدریج افغانستان سے انخلا کا عمل شروع ہوگا۔معاہدے پر دستخط کی تقریب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان کی نمائندگی کی، اس کے علاوہ لگ بھگ 50 ممالک کے نمائندوں کی شرکت بھی شرکت ،دلچسپ بات یہ کہ طالبان کی قید میں 3 سال رہنے والے آسٹریلین یونیورسٹی کے پروفیسر ٹموتھی ویکس بھی معاہدے کی تقریب میں شرکت کے لیے دوحہ میں موجود تھے
،مذکورہ معاہدے کے نتیجے میں کابل حکومت اور طالبان میں بات چیت ہونے کی توقع ہے جو اگر کامیاب ہوئے تو افغان جنگ بالآخر اختتام پذیر ہوجائے گی۔تاہم اس حوالے سے افغان حکومت کی پوزیشن اب تک غیر واضح ہے جسے امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے براہِ راست مذاکرات سے الگ رکھا گیا تھا جبکہ ملک میں صدارتی انتخاب کے نتائج آنے کے بعد سیاسی بحران بھی جنم لے چکا ہے۔ افغان حکومت کے ذرائع نے بتایا کہ دوحہ میں طالبان سے معاہدہ ہوجانے کے بعد امریکا کابل میں افغان حکومت کے ساتھ ایک علیحدہ تقریب منعقد کرے گا۔یہ بات مدِ نظر رہے کہ معاہدے پر دستخط سے قبل ایک ہفتے تک دونوں فریقین نے باہمی اعتماد سازی سے تشدد میں کمی کے سمجھوتے پر عمل کیا تھا۔خیال رہے کہ امریکا کے 12 سے 13 ہزار فوجی اس وقت افغانستان میں موجود ہیں جس میں معاہدے کے چند ماہ کے عرصے میں کمی کر کے 8 ہزار 600 کردی جائے گی جبکہ مزید کمی طالبان کی افغان حکومت سے روابط پر منحصر ہے جنہیں وہ کٹھ پتلی حکومت کہتے ہیں۔
تاریخی معاہدے کی دوحہ میں ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن ثانی نے کہا کہ دوحہ سمجھتا ہے کہ افغانستان میں امن کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا فریقین سمیت عالمی برداری کی مشترکہ ذمہ داری ہے، قطر کی حکومت نے معاہدے کو کامیاب بنانے کے لیے کردار ادا کیا جس سے افغانستان میں 19سالہ جنگ کا خاتمہ اور پائیدار امن کی راہ ہموار ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ امن معاہدہ مرحلہ وار مذاکرات کے نتیجے میں ممکن ہوا جبکہ معاہدے کو حتمی شکل دینے پر تمام فریقین کا کردار قابل تعریف ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ آج امن کی فتح کا دن ہے، امریکا تمام فریقین پر زور دیتا ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن کے لیے اپنی توجہ مرکوز کریں ،تمام افغان امن اور خوشحالی کے ساتھ رہنے کا حق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ افغانستان کے تمام طبقوں کی آواز سننے کے نتیجے میں ہی پائیدار استحکام ممکن ہے۔مائیک پومپیو نے کہا کہ تمام امور کے دوران امریکا اور اس کے عوام کی سیکیورٹی لازمی ہے ،امن کے بعد افغانستان کے لوگوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوگا۔
افغان طالبان کے سینئر رہنما ملا عبدالغنی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور طالبان کے مابین امن معاہدہ افغانستان کی مجاہد قوم اور عالمی برداری کے لیے خوش آئند ہے، تاریخی امن معاہدے کے لئے پاکستان کا کردار قابل تعریف ہے،خود مختار سیاسی فورس (جماعت) درکار ہے جو خطے کے دیگر ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد رکھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد افغان قوم اسلامی نظام کے تحت ترقی کی بنیاد رکھے گی، تمام افغان دھڑوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ سنجیدگی اور ایمانداری کے ساتھ تمام اختلافات کو نظر انداز کر کے ایک مشترکہ اسلامی نظام تشکیل دیں جو ملک کی ترقی کا باعث بنے۔ملا عبدالغنی نے کہا کہ چین، ازبکستان، روس، انڈونیشیا اور ناروے سمیت دیگر ممالک کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنہیں نے افغان امن معاہدے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کیا۔