عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی ترجمان ثمرہارون بلور نے کہا ہے کہ تبدیلی کے دعویداروں نے پاکستان کے سیاسی کلچر کو گندہ کردیا ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے سوشل میڈیا پر سیاسی مخالفین کی تذلیل اورتضحیک شرمناک ہے، امید ہے پی ٹی آئی کے نظریاتی ورکرز پیراشوٹ کے ذریعے آنے والوں کی سیاسی تربیت کریں گے، گورنر خیبر پختونخوا نے کل رات اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک سے پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا سے شیئر کی جانے والیپوسٹس پر معذرت کی ہے،
گورنر خیبر پختونخوا کے بقول یہ اقدام ایک صوبائی وزیر اور ان کی سوشل میڈیا ٹیم کا ہے، جسکی تحقیقات کرائی جائیں گی، سیاسی مخالفین کی تضحیک کی پوسٹ اب بھی پی ٹی آئی کی آفیشل سوشل میڈیا پر موجود ہے، عوامی نیشنل پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ جن پلیٹ فارمز سے ہمارے قائدین کی کردارکشی کی گئی ہے انہی پلیٹ فارمز سے تحریک انصاف معافی بھی مانگے، سستی شہرت کے لئے ایک صوبائی وزیر اور ان کی سوشل میڈیا ٹیم اوچھے ہتکھنڈوں پر اتر آئی ہے، صحت کارڈ پر اترانے والے یاد رکھیں کہ پشاورشوکت خانم ہسپتال کے لئے زمین امیرحیدر خان ہوتی نے دی تھی۔
پشاور پریس کلب میں صوبائی انفارمیشن کمیٹی کے اراکین تیمورباز خان، رحمت علی خان، صلاح الدین خان مومند اور حامد طوفان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ثمر ہارون بلور نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے کرپشن کے خاتمے کے دعوے عوام کو گمراہ کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں، اگر بی آر ٹی میں کرپشن نہیں ہوئی تو صوبائی حکومت نے عدالت میں نیب انکوائری رکوانے کا کیس کیوں دائر کیا، تلاشی دو کا پرچار کرنے والے پاکستان کی مہنگی ترین بی آر ٹی پراجیکٹ کی تلاشی سے ڈر رہے ہیں، بی آر ٹی اگر صوبائی حکومت کا صاف ستھرا پراجیکٹ ہے تو نیب کے ذریعے اس کی تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں مہنگائی کا جن بے قابو ہوچکا ہے،
آئے روز پٹرول، ڈیزل اور اشیا خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اپنی ناکام کارکردگی کو چھپانے کے لئے وزیر اور مشیر عوام کو ادھر ادھر لگانے میں مصروف ہیں، صوبائی حکومت کا مشیر لاہور میں بیٹھ کر کالاباغ ڈیم کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے،جب تک عوامی نیشنل پارٹی کا ایک کارکن بھی موجود ہے کالاباغ ڈیم بنانے کی کوئی ہمت نہیں کرسکتا، انہوں نے مزید کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کو منہ کی کھانی پڑے گی،
خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا اعلان تو کردیا ہے لیکن حکومت اعلان کردہ تاریخ سے بھاگے گی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انفارمیشن کمیٹی کے رکن تیمورباز خان نے کہا کہ پچھلے سات سال میں پی ٹی آئی نے صوبے کے تعلیمی نظام اور اداروں کا بیڑا غرق کردیا ہے، صوبہ بھر کی یونیورسٹیاں مالی اور انتظامی بحران کا شکار ہیں، یونیورسٹیوں کے پاس ملازمین اور اساتذہ کو تنخواہیں دینے کے پیسے نہیں ہیں، اپنے حقوق کے لئے احتجاج کرنے والے طلبا کے ساتھ صوبائی حکومت دہشتگردوں جیسا سلوک کررہی ہے،
احتجاج کرنے والے طلبا کو گرفتار کرنا اور تشدد کا نشانہ بنانا شرمناک ہے،طلبا امتحانات دینے کی بجائے کورٹس اور کچہریوں میں خوار ہورہے ہیں، آن لائن امتحان کے حق میں مظاہرہ کرنے والی بینظیر ویمن یونیورسٹی کی طالبات کے ساتھ شرمناک سلوک کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے اب قوم کی بیٹیاں بھی سڑکوں پر رل رہی ہیں، صوبائی حکومت اور انتظامیہ اپنا قبلہ درست کریں اور طلبا و طالبات کے مسائل حل کرنیکے لئے اقدامات کریں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی صلاح الدین خان مومند نے کہا کہ تعلیمی اصلاحات کے دعویداروں نے تعلیمی نظام کو تباہ کردیا ہے، پشاور کے دیہی علاقوں میں گھوسٹ سکولز موجود ہیں لیکن صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم کو خبر ہی نہیں،کئی مرتبہ اسمبلی میں گھوسٹ سکولز کے خلاف آواز اٹھائی لیکن کوئی پرسان حال نہیں،
انہوں نے کہا کہ تعلیمی اصلاحات کے نام پر جو حال تعلیمی اداروں کا کیا گیا، وہی حال شعبہ صحت کا بھی کیا گیا، ہسپتالوں میں آکسیجن کی کمی کے باعث لوگ جان سے جارہے ہیں لیکن صوبائی حکومت انقلاب کے دعوے کررہی ہے، دیہی علاقوں میں موجود بی ایچ یوز میں آسامیاں خالی پڑی ہیں اور جو رہا سہا سٹاف ہوتا ہے وہ صحت مراکز میں آنے کا تکلف تک نہیں کرتا۔