تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی 54 برس کی عمر میں لاہور کے مقامی ہسپتال میں انتقال کرگئے۔
ٹی ایل پی کے ترجمان حمزہ کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کے سربراہ کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا اور گزشہ چند دنوں سے بخار تھا۔
انہوں نے کہا کہ خادم حسین رضوی ملتان روڈ پر اپنے مدرسےمیں موجود تھے اور شام کے وقت ان کی طبیعت خراب ہوئی اور لاہور کے فاروق ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا انتقال ہوگیا ہے اور ان کی میت رہائش گاہ منتقل کی جارہی ہے۔
تحریک لبیک یارسول اللہ کے سربراہ ڈاکٹر آصف جلالی نے خادم حسین رضوی کے انتقال کی تصدیق کی۔تحریر جاری ہے
تحریک لبیک یارسول اللہ کے سینیئر رہنما پیر اعجاز اشرفی نے اپنے بیان میں کہا کہ نماز جنازہ کے حوالے سے اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے ٹی ایل پی کے سربراہ کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان ایک قابل احترام مذہبی اسکالر اور پیغمبر آخرالزمان ﷺ کے سچے عاشق سے محروم ہوگیا’۔
نورالحق قادری نے کہا کہ اسلام کے لیے علامہ خادم حسین رضوی کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
خیال رہے کہ خادم حسین رضوی رواں ہفتے راولپنڈی کے علاقے فیض آباد میں فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف ہونے والے احتجاجی دھرنے میں بھی موجود تھے۔
وزیر اعظم کی ہدایت پر وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری کی سربراہی میں مذاکراتی ٹیم نے ٹی ایل پی کے سربراہ علامہ خادم رضوی سے مذاکرات کیے تھے جس میں وزیر داخلہ اعجاز شاہ، کمشنر اسلام آباد عامر احمد اور مشیر داخلہ شہزاد اکبر اور سیکریٹری داخلہ بھی مذاکراتی ٹیم میں شامل تھے۔
مذاکرات سے قبل اسلام آباد انتظامیہ نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف ٹی ایل پی کے احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر فیض آباد میں پولیس، رینجرز اور فرنٹیئر کور کے 3 ہزار 113 سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کردیا تھا۔
راولپنڈی میں منعقدہ احتجاجی ریلی میں 5 ہزار افراد نے شرکت کی تھی اور ریلی کے شرکا نے روڈ بلاک کردیا جس کے باعث لوگوں کو دارالحکومت میں داخل ہونے میں دشواری کا سامنا رہا تھا۔
اس سے قبل 12 نومبر کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے اشتعال انگیز تقاریر اور احتجاجی مظاہروں میں سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ سے متعلق کیس میں خادم حسین رضوی سمیت 26 ملزمان پر فرد جرم عائد کردی تھی۔