ہر فعل ایک فاعل کا،ہر عمل ایک عامل کا،ہر معلول ایک علت کا اور ہر مسبب ایک سبب کا تقاضا کرتا ہے ۔بالکل اسی طرح ہر جرم ایک مجرم کا مقتضی ہے ،یعنی ایسا جرم تو ہوتا نہیں کہ جو بغیر مجرم کے وجود میں آچکا ہو۔یہ تو ایسا ہے جیسا کہ جرائم کا میدان آٹو ڈرائیو یا آٹو پائلٹ پر ڈال دیا گیا ہو۔لیکن آٹوڈرائیواور آٹوپائلٹ کے پیچھے ایک محرک تو ہے اور ڈرائیور اور پائلٹ بھی اس پر نظر رکھنے کے لئے بیٹھا ہوتا ہے، حتیٰ کہ ڈرون جس میں کوئی پائلٹ تو نہیں ہوتا لیکن اس کو بھی اڑانے والا ایک محرک اور سسٹم ہے جو نیواڈا میں بیٹھے ہوئے کسی آدمی کے کمپیوٹر کے ذریعے کنٹرول میں ہوتے ہوئے چلتا رہتا ہے اور اپنا فنکشن کرتا ہے ۔
البتہ پاکستان ایک عجیب نظام کا حامل ملک ہے جہاں پر بہت سارے جرائم ہوتے رہتے ہیں البتہ وہ جرائم بھی چوری کی جائیدادوں کی طرح بے نامی قسم کے جرائم ہوتے ہیں جس کا مجرم کوئی نہیں ہوتا۔خصوصا ًوہ جرائم جس میں بڑے لوگ یعنی اشرافیہ ملوث ہو۔چند دن حکومتی ذمہ داروں کے نہایت ہی زور دار بیانات آجاتے ہیں تاکہ عوام کے اشتعال اور ردعمل کو ٹھنڈا کیا جاسکے یا ان کو یہ سبز باغ دکھائے جائیں کہ ہم ہیں آپ کے حقوق کے نگران اور نگہبان۔اور جب عوام ٹھنڈے ہوجاتے ہیں یا وہ جرم کو رضائے الہی اور قضائے الہٰی سمجھ کر خاموش ہوجاتے ہیں تو یوں وہ جرم بھی بے نامی بن جاتا ہے بلکہ جرم ہی نہیں رہتا۔
آئے دن پاکستان میں عوام کے ساتھ کھیل کھیلا جارہا ہے ۔اور وجہ اس کی یہ ہے کہ اقتدار کے ایوانوں اور راہداریوں میں ایسے افرادہیں جو صنعت کار ہیں،سرمایہ دار ہیں ،جاگیر دار ہیں یا کم از کم مفادات کی وجہ سے یا خوف کی وجہ سے ان تین طبقات کے محافظ ہیں۔ایسے میں ان طبقات کے کسی جرم کا تو اول پتہ لگانا مشکل ہوتا ہے یعنی دھند اور کہر کی ایک فضا ہے جن میں کچھ واضح نظر نہیں آتا ۔اور اگر کہیں جرم بہت ہی واضح ہو کہ جلدی اس کا اثر ظاہر ہوا تو مجرم تو کبھی بھی نظر نہیں آتا۔بس بیان آتے ہیں وزیراعظم برہم ہوگئے،ہوئے ہونگے ۔کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے کہ فورا ًرپورٹ پیش کی جائے اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے کہ آٹا بحران اور چینی بحران کا ذمہ دار کون ہے ؟پٹرول کے بحران کا ذمہ دار کون ہے؟نہیں چھوڑا جائے گا۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جرم کرنے والے ایسے انداز سے جرم کرجاتے ہیں ،اس کو ایسا چکر دے دیتے ہیں کہ شروع کاسرا کبھی ملنے والا ہی نہیں ہوتا۔اور یوں مجرم صرف بچ نہیں نکلتے بلکہ اگلے جرم کے لئے زیادہ مستعد ہوجاتے ہیں
۔کیونکہ علم تو دن بدن بڑھتا رہتا ہے ،ا س طرح تجربہ بھی دن بدن بڑھتا رہتا ہے اور ایسا کہ عصر کی جدید ٹیکنالوجی بھی اس کا راستہ روکنے میں اب تک تو مکمل ناکام ہے ۔یہ فطری مجرم اتنے تیز ہیں کہ انہوں نے ٹیکنالوجی کو مفلوج کردیا ہے۔اور جیسا کہ ہم ذکر کرچکے ہیں کہ یہ اقتدار کے ایوانوں اور راہداریوں والے لوگ ہیں ۔یا وہ ہیں جنہوں نے ان لوگوں کو بھاری بھر عطیے دے کر ایوانوں تک پہنچایا ہوتا ہے اور اب وہ اس کا صلہ پارہے ہیں کہ ارباب اقتدار ان کے زیر بار احسان اور اگلی بار بھی عطئے کی آس کیے ہوتے ہیں ۔لہٰذا انہوں نے ان کے خلاف کیا کرنا ہے ۔بلکہ یہی لوگ حکومت کے ذمہ داروں کو ہر وقت مختلف صورتوں یعنی گاڑیوں ،گھروں،باہر کے اخراجات اٹھانے ،مختلف مناسبتوں سے زیورات اور ان کے اہل خانہ کے برتھ ڈے ،گریجویشن اور شادی بیاہ پر سارے اخراجات برداشت کرنے کی شکل میں دیتے رہتے ہیں۔کمیٹی کی رپورٹ کو کمیٹی والے خود اپنے مفاد کے لئے یا پھر ان طاقت ور لوگوں کے دباو اور خوف کی وجہ سے ایسا ٹیڑھا بنادیتے ہیں کہ قیامت تک ان مجرموں کا پتہ نہیں لگنا۔نیب نے کئی سارے لوگوں کو پکڑا بھی ۔حکومت کے ذمہ داروں نے بھی بہت واویلا کیا ،میڈیا بھی سرگرم رہی اور کوئی کیس ثابت نہیں ہورہا کیوں؟
وہی بات کہ مجرم ایسے انداز سے جرم کرتے ہیں کہ اس کا سرا نہیں ملتا ۔اور سرا معلوم کرنا جن لوگوں کی ذمہ داری ہوتی ہے یا تو وہ نااہل ہوتے ہیں وہ ایسا کر نہیں سکتے یا وہ بد عنوان ہوتے ہیں کہ وہ سرا معلوم کرنا ہی نہیں چاہتے ۔ایسے میں یہی مجرمان قوم وملک وملت دن بدن مزید مالدار ہوتے رہتے ہیں اور غریب غریب تر جبکہ غربت میں کمیت اور کیفیت دونوں کے حوالے سے ۔ایسے میں ہم چاہتے کیا ہیں؟یہ کہ یہ بے کس اور بے بس ضروریات زندگی سے محروم لوگ ان مجرموں پر خود چرھ دوڑیں اور پھر ماحول کیا ہوگا؟اللہ کی پناہ!لیکن اس ماحول میں پھر سب رل جاتے ہیں۔اب بھی وقت ہے کہ ہم خدا اور آخرت کا خوف مد نظر رکھ کر اپنی اصلاح کریں وگر نہ
تمہاری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔