عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخارحسین نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے زیراہتمام 22نومبر کو پشاور میں عظیم الشان جلسہ ہر صورت میں ہوگا۔
حکومت نے جلسے کی اجازت نہ دے کر اپنی بدنیتی ظاہر کردی۔ نوشہرہ ڈاگ اسماعیل خان میں تنظیمی عہدیداران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخارحسین نے کہا کہ اس قسم کے ہتھکنڈوں سے پی ڈی ایم کی جمہوری تحریک کو ناکام نہیں بنایا جاسکتا۔ رکاوٹیں عوام کا راستہ نہیں روک سکتی لیکن اس عمل سے حکومت کا ڈر عیاں ہوچکا ہے۔ بینرز، بورڈ اور فلیکسز ہٹانے کیلئے سرکاری مشینری استعمال کی جارہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی اس جلسے میں تاریخی شرکت کرے گی اور سرخ سیلاب 22نومبر کو پشاور کا رخ کرے گا۔اگر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تو ایک جلسہ سینکڑوں جلسوں کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔رکاوٹیں کھڑی کرنے کی صورت میں پشاور سمیت پورے صوبے میں جلسے ہوں گے۔تمام رکاوٹوں کو توڑ کر عوام پشاور پہنچیں گے اور نااہل حکومت سے چھٹکارا حاصل کریں گے۔ کورونا کا بہانا بنانے والے سن لیں کہ پھر ہر جگہ عوام کا سمندر اکھٹا ہوگا جس کو کنٹرول کرنا اس سلیکٹڈ حکومت کے بس کی بات نہیں ہوگی۔ ہم پرامن لوگ ہیں اور پرامن احتجاج عوام کا آئینی و قانونی حق ہے ۔ اس حق سے کوئی انہیں محروم نہیں کرسکتا۔ میاں افتخارحسین نے مزید کہا کہ کورونا وبا کے آڑ میں حکومت کی نااہلی نہیں چھپائی جاسکتی ۔ اب انکی نااہلی عوام جان چکی ہے۔ جلسے کو فول پروف سیکیورٹی دینا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اگر خدانخواستہ کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو اسکی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ انکا کہنا تھا کہ عوامی نیشنل پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں اور عوامی سمندر 22نومبر کو اس سلیکٹڈ حکومت کے خلاف اپنا فیصلہ سنائے گی