تحریر: ڈاکٹر میر عالم سید
اگر کویڈ-19 کی وجہ سے حکومت کمزور ترین طلبہ و طالبات سے امتحان لیکر فیل نہ کرنیکا فیصلہ کر رہی تو اس کے دیرپا اثرات کیا ہو سکتے ہیں، قابلِ تشویش بات ہے۔ ہمارے ملک میں ایک طرف تو حکومتی پالیسیوں سے ایسا لگ رہا ہے کہ تعلیم و صحت باقی تمام امور مملکت سے مقدم اور اہم ہیں اور یہ نعرے بھی گونج رہے ہیں کہ کسی بھی قوم و ملک کی بلندی اور ترقی تعلیم کے بغیر ناممکن ہے لیکن اس سب کچھ کے باوجود ہمارے پیارے وطن میں تعلیم کا جس انوکھے انداز سے جنازہ نکالا جا رہا ہے، اسے نہ صرف تاریخ یاد رکھے گی بلکہ ہم جیسوں کو نہ تاریخ معاف کرے گی نہ ہماری نئی نسلیں۔
ہم تعلیم کو بچانے کی آڑ میں تعلیم کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے مقابلہ اور ان پر سبقت لینے کے گن سیاسی ارکان سے لے کر محکمہ تعلیم کا اعلیٰ و ادنیٰ آفیسر تک گاتے تھکتے نہیں لیکن زمینی حقائق کچھ یوں ہیں کہ ہمارے ملک میں صرف اور صرف تعلیم کا خون کیا جارہا ہے جس پر ماسوائے چند ایک مخلص تعلیمی دانشوروں کے سب کے سب ڈنڈے بجا بجا کر خوشی کے گیت گا تے رقص کرتے نظر آرہے ہیں۔ اگر چہ سب کی طرح بچوں کی زندگی بھی ہمارے لئے نہایت قیمتی ہے لیکن عام آدمی کی رائے کے مطابق اس کورونا وائرس سے بچوں کی اموات کی شرح بھی نہایت ہی کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ لیکن بد قسمتی یہ کہ سب سے زیادہ نقصان انہی بچوں کو ملا ہے۔ ان کا جو قیمتی وقت ضائع کیا گیا ہے اس کا علاج ناممکن ہے۔ اگر کوئی یہ منطقی جواز پیش کرتا ہے کہ بچوں کی آن لائن پڑھائی اور ٹیچنگ جاری ہے تو یہ صرف سبز باغ دکھانے اور لالی پاپ کے سوا اور کچھ بھی نہیں کیونکہ ہمارے طلباء و طالبات کی شدید غربت ہی سمارٹ فون کی راہ میں بڑی رکاؤٹ ہے اور ساتھ ہی اگر کسی کے پاس سمارٹ فون ہے بھی تو دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی کی عدم دستیابی اور سہولت کا مسلہ بھی اظہر من الشمس ہے، ہم سر پہ کھڑی موت کے آگے آنکھیں بند کرکے موت سے چھٹکارے کے چکر میں ہیں۔
ہمارے ہاں اکثر والدین خط غربت کے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں ان کے پاس نہ وقت، نہ پیسہ اور نہ علم و ہنر ہوتا ہے جس سے وہ اپنے بچوں کے آن لائن سٹڈیز اور پڑھائی کا بندوست کر سکیں۔ آپ کے علم میں ہے کہ ہمارے طلباء و طالبات نے سارا سال ہوم ورک کے چکر میں گزارا جسے انہوں نے بالکل ایک گپ سمجھا اور اس کی اھمیت کو یکسر نظرانداز کر نے لگے ہیں۔ اگر اساتذہ یا سکول انتظامیہ کوئی ایکشن لے بھی تو کیا ایکشن لے سکتا ہے؟ کیونکہ “مار نہیں پیار” کا ٹریلر بھی چل رہا ہے اور ساتھ سزا اور جرمانہ پر بار بار سخت تادیبی سزاؤں کی وعید اور خوف بھی ہے۔ والدین کا تعاون بھی نہیں ہے اور وہ اور نہ ہی ان کے بچے تعلیم و تربیت میں کوئی خاص دلچسپی لے رہے ہیں، تو ایسی صورت حال میں خاص کر سرکاری ادارے اگر بری طرح ناکام نہ ہوں گے تو اور کیا ہوں گے۔حالیہ کئے گئے فیصلوں سے ایسا لگ رہا ہے کہ ایسے فیل طلبہ اگلے گریڈ میں جائیں گے جن کی ذہنی استعداد اور لیاقت کریکولم اس کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہوگی اور باقی Domains کو چھوڑ کے طلبہ کے Cognitive Domain کے چھ لیولز میں سے پہلی سطح Knowing بھی صحیح طریقہ سے ترقی نہیں پا سکتی باقی Understanding, Applying, Analyzing, Evaluating اور Creating تو دور کی بات۔ آج کی سائکالوجی بچوں کے Cognitive Load کی شدید مخالفت کرتی ہے جبکہ موجودہ صورت حال کے پیشِ نظر بچوں میں ذہنی استعداد اور کریکولم کو سمجھنے کی صلاحیت نہ ہو نے کی وجہ سے چائلڈ لیبر، مشقت، ذہنی بوجھ اور نفسیاتی دباؤ میں اضافے کا قوی خدشہ ہے۔
اگر امتحان میں پاس فیل کا تصور نہ ہو تو ایسے امتحانات کا نقصان اس کے فائدہ سے زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ ہم امتحان کو ایک Motivational Force کے طور پر استعمال کرتے ہیں جس سے بچوں میں مقابلہ کرنے اور دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے لیکن سب کو پاس کرنے کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ گریڈ 5 کا طالب علم بغیر پڑھے گریڈ 7 اور8 میں جا کے دو درجے اوپر کے کورسز پڑھنے کی استعداد اور صلاحیت رکھتا ہے, جو کہ جنت الحمقاء میں خوشی منانے کا مترادف ہوگا۔ سٹوڈنٹس میں تن آسانی کا رجحان پنپتا جا رہا ہے۔ اگر چہ ہر دفعہ مفت پاس ھونے کے مواقع تونہیں ہوتے لیکن اکثر سٹوڈنٹس کو سنتا آیا ہوں کہ ویسے بھی مفت میں پاس ہوں گے تو سوز دماغ اور خون دل جلانے کی کیا ضرورت۔ اسی پست ذہنی استعداد کے حامل طلبہ و طالبات کو اگلے گریڈ کے کریکولم پڑھانے میں اساتذہ اور سکول منیجمنٹ کس قسم کی مشکلات اور مسائل سے دوچار ھونگے، پائیو سٹارز ہوٹلوں کے ایرکنڈیشنڈ رومز میں بیٹھ کے پالیسیاں بنانے والوں کو کہاں ان زمینی حقائق کا علم اور خبر ؟
اس طرح سرکار کی طرف سے سزا و جزا اور سرزنش کے آگے سرکاری سکولز کے ائندہ انیوالے نتائج پر کیا کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اس کی فکر کسی کو بھی نہیں۔ اساتذہ اور سکول منیجمنٹ کو مفت میں پاس کرنے کا فیصلہ کرنیوالوں کی طرف سے کیسی کیسی وضاحت طلبیوں اور شوکاز نوٹسوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ صرف اساتذہ جانتے ہیں۔اگر چہ آج تک سکول منیجمنٹ اور اساتذہ کے ساتھ نہ والدین کی، نہ سٹوڈنٹس کی اور نہ کسی اور معاشرتی ذمہ دار فرد کی طرف سے کسی بھی قسم کی معاونت رہی ہے لیکن پاس فیل کا تصور ختم کرکے رہی سہی کسر بھی پوری ہوگی اور ماہرینِ تعلیم کھسیانی بلی کی طرح گوشہء عافیت کی تلاش میں گزر بسر کریں گے۔ ہماری بدنصیبی کا یہ ماتم کہ ہماری پالیسیاں وہ لوگ بناتے ہیں جن کا تعلیم کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے طلباء شفقت محمود کے ترانے گاگا کے خوشی سے جامے میں پھولا نہیں سما رہے ہیں۔ میں نے پڑھا تھا کہ تعلیم اس حکومت کی اولین ترجیح ہوگی لیکن اولین ترجیح تو ایک طرف، اگر اسے صرف ترجیح بھی دی جاۓ تب بھی حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے سکول آفیسرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں کی ایک متفقہ قرارداد میں یہ گزارش کی گئی ہے کہ حکومتی عہدیداران ماہرین تعلیم کے ساتھ بیٹھ کے پاس فیل پالیسی اور دیگر تعلیمی امور کے ان تمام پہلوں پر سیرحاصل اور مثبت سوچ کے ساتھ بحث و مباحثہ کریں جن کی اہمیت وقت کے تناظر میں زیادہ ہے تاکہ حکومت کو مثبت فیڈبیک ملے اور ائندہ کی منصوبہ بندی ماہرین تعلیم کے تمام سوالات کے جوابات اور تجاویز کی روشنی میں کی جاۓ۔
اس حوالے سے کسی بھی سیاسی اور منفی تنقید سے اجتناب کرنا ضروری ہے کیونکہ تعلیم سب کا مسئلہ ہے جس میں ہمارے وطن کی ترقی کا راز مضمر ہے۔ ہمیں ایک اچھے پروفیشنل بن کے اپنا موقف اور رائے دینی چاہیے۔ آئیے سب مل کر تعلیم کو بچائیں، پاکستان کو ترقی دیں، پوری قوم کو سرخرو کریں۔