425

علماء کرام سے گذارش

 شمیم شاہد

وقت کے ساتھ ساتھ مذہب کے طرف رجحان میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ایک طرف انگریزی طرز تعلیم کو پروان چڑھتا جارہا ہے تو دوسری طرف انگریزی طرز تعلیم کے مقابلہ کرنے کیلئے مذہبی حلقوں نے بھی اپنی مدارس کو ماضی کے برعکس نہ صرف تجارتی بنیادوں پر قائم کرنا شروع کردیا ہے بلکہ اپنی مدارس میں بچوں کو جدید طرز تعلیم یعنی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ میڈیکل انجنیئرنگ ، کمپیوٹر سائنس اور دیگر معاشی انتظامی اور سماجی سائنسسز کے مضامین کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اسی طرح افغان جنگ کے نتیجے میں دنیا بھر میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص مدارس کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ ماضی میں صرف غریب اور نادار گھرانوں کے بچوں کو دینی مدارس میں مذہبی تعلیم کے حصول کیلئے بجھوایا جاتا تھا ، مگر مالدار گھرانوں کے بچے بھی کثیر تعداد میں اپنی مدارس میں تعلیم حاصل کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح تبلیغ کا سلسلہ بھی دن بدن منظم ہوتا جارہا ہے۔ ماضی قریب میں صرف یہ ہوا کے نواحی علاقے رائے ونڈ میں تبلیغ کا سالانہ اجتماع ہوتا تھا مگر اب تقریباً ملک بھر میں روزانہ کسی نہ کسی جگہ پر تبلیغی اجتماع منعقد ہوتا ہے۔ اجتماعات کے علاوہ دن بھر ملک بھر میں ہر گاؤں اور دیہات میں تبلیغی حضرات ٹولیوں کے شکلوں میں ایک مسجد سے دوسرے مسجد تک آتے جاتے ہیں اور اب تبلیغ ایک مکمل مذہبی سیاسی جماعت کے شکل میں اُبھر کر سامنے آیا ہے اور دن بدن اس مذہبی ، سیاسی جماعت کی جڑیں مستحکم ہوتے جارہے ہیں مگر ان تمام تر ترویج و ترقی کے باوجود بھی معاشرے کے بگاڑ پچھاڑ کا سلسلہ جارہی ہے۔ مذہبی اداروں میں بھی مذہبی سیاسی جماعتوں ، مدارس، تبلیغی مراکز اور علماء کرام کی بڑھتی جارہی ہے۔ دیگر لعنتوں اور قباحتوں کے علاوہ اس وقت پختون معاشرے میں چرس پینا، ہیروین اور آئس کے نشے نہ صرف عام ہیں بلکہ ان نشوں کو ایک منظم اور مخصوص طریقیوں سے پروان چڑھایا جارہا ہے۔ چرس اور افیون کے نشوں میں اضافے کو اسلام آباد سے حکمرانوں نے بھی محسوس کیا ہے۔ چند روز قبل ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے بھی چرس اور افیون کے پیداوارکو نشہ اور آشیاء بنانے کے بجائے دوائیوں کے استعمال میں بروئے کار لانے کی بات کی تھی۔ ملک بھر میں اب افیون کی پیداوار مکمل طور پر بند ہے۔ تاہم بعض پہاڑی علاقوں میں بھنگ کے پودے اُگائے جاتے ہیں یا قدرتی طور پر پیرا ہوتے ہیں جس سے چرس بنائی جاتی ہے اور چرس بنانے کا مرکز وادی تیراہ ہے۔ اس وادی تیراہ نے افغانستان کے ساتھ ملحقہ تین قبائلی علاقوں یعنی خیبر ، اورکزئی اور کرم کو ایک دوسرے سے یکجا کردیا ہے اور 2014سے اب وادی تیراہ کے کونے کونے میں سیکورٹی فورسسز کے بیرکس اور چوکیاں قائم ہیں لہٰذا سیکورٹی فورسسز کے موجودگی میں بھنگ کے بے ضرر پودے کو چرس میں تبدیل کرنا یا یہاں پر ہیروئن اور آئس کی تجارت اور نقل و حرکت کچھ عجیب سا لگتا ہے بات ہورہی تھی مذہبی اداروں اور علماء کرام کی۔ اگر آج کل دیکھا جائے تو سرکاری سکولوں اور سیاسی جماعتوں اور کارکنوں سے زیادہ نیٹ ورک ہی ان مذہبی دانشوروں ، علماء کرام، خطباء اور تبلیغی جماعت سے منسلک افراد کا ہے اور یہی لوگ ان مدارس اور مساجد کے ذریعے معاشرے کو قابو کررہے ہیں ۔ نہ صرف محلے محلے بلکہ گلی گلی میں مساجد قائم و دائم ہیں۔ اُن مساجد میں نماز جمعہ کے خطبات کے علاوہ ہر نماز کے بعد تبلیغی جماعت کا ’’تعلیم‘‘ بھی ایک جز بن چکا ہے۔ دن رات یہی مولوی ، مفتی ، علماء کرام اور واعظین تو لوگوں کو دین کے طرف راغب کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور تقریباً یہ لوگ اپنے اپنے مقاصد میں کامیاب ہورہے ہیں۔ یہ علماء کرام اور خطباء تو لوگوں کو قبر اور روز محشر کے عذابوں اور سختیوں سے ڈرا، دھمکا رہے ہیں او ر لوگوں کو عبادات کی طرف مائل کرنے کی کوشش میں ہے، مگر ان علماء کرام اور خطباء کی اکثریت معاشرے میں چرس، ہیروئن اور آئس جیسے منشیات کے استعمال پر بالکل خاموش ہیں۔ دن رات یہ لوگ کافروں اور انگریزوں کو برا بھلا کہتے تھک نہیں جاتے کیونکہ علماء کرام کے بقول یہ کافر اور انگریز شراب جیسے حرام چیز استعمال کرتے ہیں مگر کبھی بھی ان علماء کرام، خطباء اور مذہبی دانشوروں نے چرس، ہیروئن ، آئس اور دیگر منشیات کے خلاف ایک مؤثر آواز نہیں اُٹھایا ہے جس کی وجہ سے اب یہ منشیات پختون معاشرے کے مستقبل کیلئے ایک بہت بڑا خطرہ بنا ہوا ہے۔ علماء کرام ، خطباء او رتبلیغی جماعتوں سے منسلک افراد کافرض بنتا ہے کہ وہ چرس، ہیروئن ، آئس اور دیگر منشیات کے استعمال کے خلاف ایک ایسی منظم تحریک شروع کرے جس طرح تبلیغی جماعت سے منسلک افراد نے تبلیغ کے ترویج و ترقی کیلئے شروع کردیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوسکا ۔ نہ مستقبل قریب میں مذہبی جماعتوں، مدارس و مساجد کے منتظمین اور تبلیغی جماعتوں کے امراء کے یہ تمام کاوشیں بے نتیجہ ثابت ہوسکتی ہے۔ ابھی وقت ہے کہ مذہبی حلقوں اور جماعتوں سے منسلک افراد کافر کافر کے بجائے اپنی ہی اسلامی معاشرے ان خونخواروں کو بے نقاب کرنے کیلئے ایک منظم مہم کا آغاز کرے جس سے ملک بھر کے بچے بے راہروی اور تشدد کا شکار ہورہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں