286

ماونٹ ایورسٹ سر کرنے کا جھوٹا دعوی، بھارتی کوہ پیماؤں پر پابندی

نیپال نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماونٹ ایورسٹ سر کرنے کا جھوٹا دعوی کرنے والے دو بھارتی کوہ پیماؤں اور ان کے ٹیم لیڈر پر کوہ پیمائی پر چھ برس کے لیے پابندی عائد کردی ہے۔

نیپال نے ان دونوں بھارتی کوہ پیماؤں کے ایورسٹ کی چوٹی سر کرنے کی سند بھی منسوخ کر دی ہے۔ دوسری طرف بھارت نے بھی ان دونوں کو ملک کا اعلی ترین ایڈونچر اسپورٹس ایوارڈ دینے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔

بھارتی کوہ پیما نریندر سنگھ یادو اور سیما رانی گوسوامی نے دعوی کیا تھا کہ سن 2016 کے موسم بہار میں وہ دنیا کی بلند ترین چوٹی ماونٹ ایورسٹ پر پہنچ گئے تھے اور نیپال کے محکمہ سیاحت نے اس وقت ان کے دعوے کی تصدیق بھی کردی تھی۔

لیکن گزشتہ برس جب بھارتی وزارت اسپورٹس نے نریندر سنگھ یادو کو ملک میں ایڈونچر اسپورٹس کے اعلی ترین تینزنگ نورگے ایوارڈ دینے کا اعلان کیا تو بھارتی کوہ پیماوں میں سخت ناراضگی پیدا ہوگئی۔ اس کے بعد تحقیقات کا آغاز ہوا۔

نیپال کی وزارت سیاحت کی ترجمان تارا ناتھ ادھیکاری نے ایک بیان میں کہا کہ اپنی تحقیقات اور دوسرے کوہ پیماؤں سے پوچھ گچھ کے بعد انکشاف ہوا کہ دونوں ‘کبھی بھی اس چوٹی پر نہیں پہنچے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں بھارتی کوہ پیما اپنی کامیابی کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے حتی کہ وہ قابل اعتماد تصاویر بھی پیش کرنے میں نا کام رہے۔

پہلے بھی جھوٹے دعوے

اس سے قبل ایک اور بھارتی جوڑے دنیش اور تارکیشوری راٹھور نے بھی 2016 کے موسم گرما میں ایورسٹ سر کرنے کا دعوی کیا تھا۔ ان کا دعوی تھا کہ وہ دنیا کی بلند ترین چوٹی ایک ساتھ سر کرنے والا پہلا بھارتی جوڑا ہے۔ تاہم ان کا یہ دعوی بعد میں جھوٹا ثابت ہوا تھا۔

مہاراشٹر صوبے کے پونے پولیس میں کام کرنے والے اس جوڑے نے فوٹو شاپ کے ذریعہ ستیہ روپ سدھانت نامی ایک دیگر کوہ پیما کی تصویروں کو اپنی تصویر کے طور پر پیش کر دیا تھا۔ سدھارتھ نے اس سے چند دن قبل ہی ماونٹ ایورسٹ کی چوٹی فتح کی تھی۔

نیپال نے راٹھور جوڑے پر دس برس کے لیے کوہ پیمائی پر پابندی لگا دی تھی اور پونے پولیس نے انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا تھا۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق ماونٹ ایورسٹ سر کرنے کا جھوٹا دعوی کرنے کی وجہ سے پابندی عائد کیے جانے والے کوہ پیماوں کی سب سے زیادہ تعداد بھارت میں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں