305

میانمارکی فوج کا اقتدار پر قبضہ، منتخب رہنما آنگ سان سوچی زیر حراست

میانمار کی فوج نے نوبل انعام یافتہ رہنما آنگ سان سوچی کی جمہوری طور پر منتخب حکومت کے خلاف بغاوت میں اقتدار پر قبضہ کرلیا اور صبح سویرے چھاپوں کے دوران انہیں اور ان کی پارٹی نیشنل لیگ فور ڈیموکریسی جمہوریہ (این ایل ڈی) پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق فوج کے زیر ملکیت ایک ٹی وی اسٹیشن پر جاری ایک بیان کے مطابق فوج نے کہا کہ اس نے یہ انتخابی دھاندلی کے جواب میں نظربندیاں انجام دی ہیں جس سے فوجی سربراہ من آنگ ہیلنگ کو اقتدار دیا گیا ہے اور ایک سال کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

دارالحکومت نیپیداو اور اہم تجارتی مرکز ینگون کے لیے فون لائنز تک رسائی نہیں ہوسکی اور پارلیمنٹ کی پہلی نشست سے قبل سرکاری ٹی وی کو بھی بند کردیا گیا۔

واضح رہے کہ نومبر میں این ایل ڈی نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی جسے آنگ سان سو چی کی جمہوری حکومت کے لیے ریفرنڈم کے طور پر دیکھا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں