549

پانی کے حصول سے جڑی لنڈیکوتل کی ا یک غریب لڑکی کی درد ناک کہانی

آئین نیوز(عمران شینواری): پاکستان بننے کے بعد لنڈیکوتل میں پینے کے صاف پانی کا مسئلہ چلا آرہا ہے ہمارے باپ داد بھی پینے کا صاف پانی گھروں میں لانے کیلئے در بدر سر توڑ کوشش کر رہے تھے غربت اور غریبی کی وجہ سے لوگ بڑے ٹیوب ویل نہیں لگا سکتے جبکہ حکومت نے بھی صرف و عدے کئے ہیں.

عملی طور پر کچھ نہیں کیا جبکہ الیکشن کے دوران بھی امیدواروں پانی مہیا کرنے پر ووٹ لینے کی کوشش کر تے ہیں سترسالوں سے لنڈیکوتل کی باپردہ خواتین دور دور سے پانی سروں پر لاتی ہیں اس دوران کئی خواتین چشموں سے پانی لانے کے دوران گر کروہ شدید زخمی ہو جا تی ہیں جبکہ زیا دہ تر خواتین کے حمل بھی ضائع ہو جاتے ہیں

اسطر ح ایک درد ناک کہانی لنڈیکوتل کے علاقہ شیخ مل خیل بھائی خیل کے رہا ئشی نسان خان کی17سالہ بیٹی شائستہ کی بھی ہے جو چھ مہینے پہلے تقریبا ایک کلو میٹر دورسے 30لیٹر ڈبے میںاپنے سرپر گھر کیلئے پینے کا صاف پانی لا رہی تھی اس دوران وہ ڈبے کے وزن کو برادشت نہ کر سکی اور وہ گر گئی جس سے وہ شدید زخمی ہو گئی

ا س وقت اسے دست اور الٹیوں کی بیماری لگ گئی جوان بیٹی کی علاج اس وقت اپنے گاوں میں ایک ڈاکٹر سے کرایا گیا لیکن وہ مسلسل کمزور ہوتی چلی گئی جب پشاور سپشلسٹ ڈاکٹر سے معائنہ کرایا تو ڈاکٹر نے بتا یا کہ وزنی ڈبے کی وجہ سے اس کی کمر میں شدید زخم پیدا ہو گیا ہے اور اب اس کو خون کی اشد ضرورت ہے

اس تمام صورت حال اور مشکلات کو دیکھتے ہوئے ,,روزنامہ آئین ،،نے انکے والد اور بیمار بیٹی کے ساتھ انٹرویو کیا گیا والد نسان خان نے کہا کہ وہ لنڈیکوتل بازار کے گوداموں میں دیہاڑی مزدوری کرتے ہیں وہ ایک غریب گھرانے سے ہے انکی جوان بیٹی گز شتہ چھ مہینوں سے سخت بیماری اور اذیت میں مبتلا ہے تین لاکھ روپے تھے جو اپنے بیٹی پر خرچ کر چکے ہیں لیکن اب وہ علاج معالجہ نہیں کر سکتے

انہوں نے کہا کہ انکی بیٹی کی کمر میں شدید زخم ہیں اور (ایپسسز)یعنی پیپ جمع ہو گئی ہے اور ہر مہینے انکو خون لگانے کی ضرورت ہو تی ہے جب انہیں خون لگا تے تو دوسرے دن خون کی الٹیاں کرتی ہیں اورخون منہ سے نکلتی ہے پھر ڈاکٹر کہتے ہیں کہ خون پھر لگانے کی ضرورت ہے،ڈاکٹروں کے مطابق کہ وہ اس وقت تک انکی کمر سے کینسر کی ٹیسٹ نہیں لے سکتے جب تک کمر سے پیپ یعنی زخم ٹھیک نہیں ہو تی جبکہ پیپ دوئیواں کے زریعے ختم کرنے کی کوشش کرینگے ایسے نکال نہیں سکتے.

انہوں نے کہا کہ روازنہ انکے گھرمیں ماتم ہو تی ہیں کیونکہ جوان بیٹی خون کی الٹیاں کرتی ہے آئے روز پشاور لے جانہ اور ہسپتالوں میں خرچے کرنا انکے بس کی بات نہیں کیونکہ انکے پاس کو ئی رقم نہیں ہے اس لئے مجبورا میڈیا کے پاس آئے ہیں تاکہ صاحب حثیت لوگ انکے ساتھ تعاون کریں

انہوں نے کہا کہ سینٹر الحاج تاج محمد آفریدی کو بتا یا کہاا نہیں روپیہ نہیں چاہئے ایک ہسپتال میں میرے بیٹی کو ایڈمیٹ کرائیں انہوں نے اس وقت اپنے سیکر ٹری اور پرسنل منشی کو بتا یا کہ فوراب انکی بیٹی کو ہسپتال میں داخل کر ائیں اور جو خرچہ اس پر اآئیگا وہ ادا کریں جب دوسرے دن وہ انکے منشی اور سیکرٹری کے پاس چلے گئے تو انہوں نے بتا یا کہ اپ اتنظار کریں جبکہ وہ سخت مشکلات اور پریشانی سے دوچار تھے وہ انتظار نہیں کر سکتے جب دوبارہ انکے پاس گئے تو انکے منشی نے انہیں بیس ہزار روپے دیکر رخصت کر دیا

مجھے بیس ہزار روپے کی ضرورت نہیں تھی بیٹی کو ہسپتال میںداخل کرانے کی انکی علاج کرنے کی ضرورت تھی. نسان خان نے بتا یا کہ ضلع خیبر زکواتہ چیئرمین نے بھی بتا یا کہ انکے پاس کوئی فنڈ نہیں ہے جس سے وہ انکی بیٹی کا علاج معالجہ کر سکے انہوں نے کہا کہ اب اللہ تعالی کے اسرے سب کچھ چھوڑ دیا ہے.

والد کی مجبوری دیکھ کر دکھ ہوتا ہے،خون کی الٹیاں روک نہیں سکتی،شائستہ


بیمار اور شدید اذیت میں مبتلا جوان لڑکی شائستہ نے بتا یا کہ وہ اس وقت سخت درد اور تکالیف سے دوچار ہے لیکن اپنے والد کو دیکھ درد اور تکالیف ظاہر نہ کر نے کی کوشش کرتی لیکن خون کی الٹیوں کو نہ چھپاسکتی ہے اور نہ انہیں اندر ہی اندر روک سکتی ہوں کیونکہ وہ اسکی بس میں نہیں ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں