جس طرح پشاور یاد آتا ہے اسی طرح پشاور میں منعقدہ چند تقاریب کسی خاص وجہ سے میری یادوں کا حصہ ہیں جون1974١ء کی بات ہے پاکستان رائٹرز گلڈپشاورکے اباسین آرٹس کونسل کے ہال میں ایک کتاب گی تقریب رونمائی کا اہتمام کیا گیاکتاب کا نام تھا دشت ایثار جو راولپنڈی ٹیلویثرن کے پروڈیوسر عون محمد رضوی نے مرتب کی تھی اس کتاب میں جنگی قیدیوں کی واپسی کے حوالے سے نظمیں اور تاثرات شامل کئے گئے تھے مرحوم خاطر غزنوی اس تقریب کے منتظم اعلیٰ تھے جنگی قیدیوں کی واپسی کے سلسلے میں بنائی گئی کونسل کی چیئرمین مسز علی ملک تقریب کی مہمان خصوصی تھیں تقریب میں احمد فرازخاطر غزنوی محسن احسان تاج سعید احمد فراز فارغ بخاری اور دیگر حضرات بھی موجود تھے تقاریر کا سلسلہ شروع ہوا اور مذکورہ شعئرا اور ادیبوں نے کتاب کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کئے ہمارے ایک بینکار دوست جمیل صدیقی بھی تقریر کرنے والوں میں شامل تھے وہ اسوقت ادبی سماجی حلقوں میں بہت سرگرم اور مقبول تھے بہر حال جب احمد فراز تقریر کرنے آئے اور انہوں نے تقریر شروع کی تو وہاں موجود سامعین کو ورطئہ حیرت میں ڈال دیا سب تعریفی تقاریر سن رہے تھے اور پھر یکا یک ایک تنقیدی تقریر سن کر ہکا بکا رہ گئے۔
قِصہ یہ تھا کہ اس کتاب میں جو نظمیں شائع کی گئی تھیں ان کی ترتیب کچھ اسطرح تھی کہ سب سے پہلے اسوقت کے وفاقی وزیراطلاعات ونشریات مولانا کوثر نیازی کی نظم اور احمد فرازکی نظم کو بعد میں رکھا گیا تھا احمد فرازکو یہ ترتیب ناگوار گذری کہ ایک وزیر کے کلام کو شاعر کے کلام پر فوقیت دی گئی جسے انہوں نے خوشامد قرار دیا اس حوالے سے دوسری دلچسپ بات یہ کہ احمد فراز اسوقت حکومت کے قائم کردہ پاکستان نیشنل سنٹر کے ریزیڈنٹ ڈائرکٹر تھے اور یہ ادارہ وزارت اطلاعات ونشریات کے تحت قائم کیا گیا تھا جس کے وزیر مولانا کوثر نیازی تھے احمد فراز کی یہ تنقیدی تقریر اپنے ادارے کے وزیر کو نشانے پر رکھے ہوئی تھی پریس سنسرکی وجہ سے احمد فراز کی تقریر کہیں شائع نہ ہونے دی گئی البتہ میں اسوقت کوئٹہ کے ہفت روزہ استقلال اور ہفت روزہ سنگت کا پشاور میں نمائندہ خصوصی تھا اور میں نے اس تقریب کا تفصیلی احوال رپورٹ کی صورت میں ہفت روزہ استقلال کو ارسال کیا جو انہوں نے اس عنوان کے تحت شائع کیا ”شاعر کا اپنی کہی بات سے انکار ان کی تقریرکا ردعمل آیا اور انہیں اس ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑے احمد فراز کی تقریر کا متن کوئٹہ کے ہفت روزہ استقلال میں شائع شدہ رپورٹ میں شائع ہواتھا اس کے علاوہ کسی اخبار یا رسالے میں یہ شائع نہیں ہوسکا یہ بہت تاریخی حیثیت رکھتاہے ۔”آج کی تقریب میں کتاب کی رونمائی کی گئی ہے میں ذاتی طور پر اس کی اشاعت سے خوش نہیں ہوا۔ ہم وہ بدنصیب قوم ہیں کہ اپنی تاریخ کے المیوں کو ہم نے ہمیشہ ماتمی انداز میں جاری رکھا اور اسطرح ملک کو امام باڑے کی شکل دے دی۔ لمحاتی ادب اور جذباتی ادب ضرور پیدا ہوتا ہے لیکن ہم جب ایسے المیوں کے بارے میں لکھتے ہیں تو شکست کے داغوں کو فخر کے میڈلوں سے سجالیتے ہیں میں نے بھی اس زمانے میں جب ہمارے فوجی دشمنوں کی قید میں تھے نظمیں لکھ کر اپنے جذبات کی ترجمانی کی تھی لیکن اب ان کی حقیقت یوں میرے لئے باقی نہیں رہی کہ بعض سانحوں کو یاد نہیں رکھنا چاہئے بلکہ آئندہ کے لیئے ولولہ پیدا کرنا چاہئے، میں اپنی تخلیق کو بازار کی جنس نہیں بنانا چاہتا میں اس کتاب کی ترتیب وتزئین سے مطمن نہیں ہوں میں اس مجموعے میں اپنی نظم کی شمولیت کو اپنی توہین سمجھتاہوں جب ایسی تخلیقات جمع کی جائیں ان میں خوشامد کی بو نہیں آنی چاہئے اس کتاب کی ترتیب کاانداز یہ ہے کہ وزیر کا کلام پہلے اور شاعر کا کلام بعد میں ہے چنانچہ میں اس کتاب کو اپنی لائبریری میں نہیں رکھو نگا”۔
احمد فراز کی اس غیررسمی بلکہ غیر معمولی تقریر کی وجہ سے وہ سب لوگ پریشان بلکہ بہت دل برداشتہ دکھائی دیئے جنہوں نے بڑی محنت اور کاوش سے یہ کتاب مرتب کی تھی اس تقریب کا ایک اور دلچسپ اور اہم پہلوپہ بھی تھاکہ احمد فراز نے تو سچی اور کھری تقریر کر ڈالی بحثیت شاعر تو یہ سب کچھ ٹھیک تھا لیکن بحثیت سرکاری ملازم انہیں یہ تقریر مہنگی پڑی ایک تو ان کو وزیر موصوف کی ناراضگی مول لینی پڑی اور اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑے دوسری طرف وزیراعظم مسٹر بھٹو نے اس کتاب کی اشاعت کو بڑا کارنامہ انجام دیا مسٹر بھٹو کا جو خاص پیغام تقریب میں پڑھ کر سنایا گیا اسمیں انہوں نے دشت ایثار کی اشاعت پر خوشی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ پاکستان کی قومی زبان میں ایک اچھے موضوع پر ہے جو جذباتی اپیل کے ساتھ ساتھ تاریخی اہمیت کی بھی حامل ہے اس کتاب سے یہ عیاںہوتا ہے کہ ہمارے شاعروں اورادیبوں نہ صرف جنگی اسیروں اور ان کے لواحقین کے مصائب اور حوصلوں کو مخلصانہ طور پر قلمبند کیا ہے بلکہ ساری قوم کے جذبات کی عکاسی کی ہے اپنی نوعیت کی یہ ایک منفرد تقریب تھی جو ہمیشہ یادرہے گئی۔