آئین میں میرے کالم پشاور یاد آتا ہے کی پہلی قسط شائع ہونے کے بعد جو رسپانس ملا وہ میرے لیے قدر ِحوصلہ افزا رہا پشاور سے میرے ایک مہربان شیخ روح اللہ خلیل نے واٹس اپ پر میسج بھیجا کہ پشاور کے لوگ بہت مہمان نواز اور بہادر ہوتے ہیں میرے خیال میں اس حقیقت سے کوئی شخص انکار کرہی نہیں سکتا کیونکہ پشاور واقعی مہمان نوازی میں سب سے آگے ہے اور جوانمردی و بہادری ان کی خصلت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے پشاور میں میری ایک پڑوسن جو اسوقت بچی تھی نے میرا کالم پڑھ لیا اور مجھے ایک میسج بھیجا کہ آپ نے پشاور کی یادوں بالخصوص جوگن شاہ کا ذکر کرکے بچپن کی یادوں کے وہ سُر چھیڑ دیئے جن کی دھُن پر مسحور ہوکر رہ گئی اور اب اگلی قسط کا بے چینی سے انتظار ہے۔ پشاور کی یادوں اور واقعات جو میری وہاں گزری پچیس سالہ زندگی میں پیش آئے ان کا احاطہ کیا جائے تو انہیں مختلف خانوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے یعنی تعلیم ، صحافت ، سیاست سماجی وثقافتی معمولات سیر وتفریح خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ میں یہاں صحافت سے متعلق یادوں اور واقعات کو لیکر آگے بڑھتاہوں صحافت کی طرف کیسے راغب ہوا اور کس کو اپنا رول ماڈل بنا کر آگے کی طرف چلنا شروع کیا ویسے تو میرے والد صاحب ڈاکٹر تھے اور وہ سائنس کی تعلیم حاصل کرنے اور ڈاکٹر بنانے کے خواب دیکھتے تھے سائنس کے مضامین کوتومیں نے اپنی تعلیم کا حصہ بنا لیا لیکن میر دل دماغ صحافی بننے کی سوچ میں اٹکا رہتا تھا ۔
اس کی سب سے بڑی وجہ میرے ماموں جان قدوس صہبائی تھے جو اپنے زمانے کے نامی گرامی صحافی تھے ان کے صحافتی کیریئرکے بارے میں تذکرہ کیا جائے تو وہ ایک پوری داستان ہے میرے ماموں جان قدوس صہبائی میرے رول ماڈل تھے جو انگریزی روز نامہ ڈان کے نمائندہ خصوصی تھے ان کی صحافتی سرگرمیاں دیکھ کر میرے دل میں صحافی بننے کی خواہش نے جنم لیا اور اس خواہش کی تکمیل کا آغاز میں نے مقامی اخبارات کے لئے مراسلات لکھنے سے شروع کیا چھوٹے چھوٹے سماجی مسائل پر لکھنا شروع کیا روزنامہ انجام روزنامہ مشرق روزنامہ وطن وغیرہ میں مراسلے شائع ہوتے رہے اور مجھے یہ حوصلہ ملتا رہا کہ میں لکھ سکتا ہوںمراسلے لکھنے سے کہانی کچھ آگے بڑھی میں گورنمنٹ کالج پشاور میں اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا ہوا تھا تو کالج میں ہونے والی مختلف تقریبات کی رپورٹس اخباروں کے لئے لکھنا شروع کردیں جو روزنامہ مشرق جو اسوقت ایک مقبول اخبار تھا میں بہت نمایاں طور پر تصاویر کے ساتھ شائع ہوتی رہیں اور بھی مقامی اخبارات میں کالج کی تقریبات کی رپورٹس شائع ہوتی تھیں لیکن مشرق اخبار نے جس طرح کالج کی رپورٹس کو اپنے اخبار میں نمایاں طور پر جگہ دی اس سے میری حوصلہ افزائی بھی ہوئی اور لکھنے کی مشق بھی خوب ہوئی کالج کی تعلیم کے چار سالہ عرصے میں لکھنے لکھانے کی اچھی خاصی پریکٹس کرلی آگے چل کر جسکا مجھے بہت فائدہ پہنچا۔گورنمنٹ کالج کے بعد قانون کی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے خیبرلاء کالج میں داخلہ لینا پڑا اور یہاں بھی میں نے گورنمنٹ کالج کی طرح میں نے خیبر لاء یونین کی سرگرمیوں کواحاطہ تحریرمیں لانے کا سلسلہ جاری رکھا جس سے میرے لکھنے لکھانے کی پریکٹس کو جلاء ملتی رہی پشاور میں ڈان کے نمائندہ خصوصی جو میرے ماموںتھے میری صحافتی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے اپنے ساتھ بطو راپرنٹس رکھنے کا فیصلہ کیا اور روز نامہ ڈان سے باقاعدہ طور پر ایک لیٹر کے ذریعے ذمہ داری سونپی کئی پریس کانفرنسوں میں مجھے کوریج کے لئے بھیجا جاتا اسی طرح جلسے جلوسوں میں بھی کوریج کے لے ڈان کی طرف سے شرکت کرتااور رپورٹ بنا کر قدوس صہبائی مرحوم کو دیتا وہ اس رپورٹ سے خبر بنا کر ڈان کو بھیج دیا کرتے تھے ۔جیساکہ میں نے اوپر ذکر کیا اپنے ماموں کا جو ڈان کے نمائندہ خصوصی تھے ان کے صاحبزادے شاہین صہبائی بھی ان کی صحافتی خدمات میں معاونت کرنے لگے اور آہستہ آہستہ وہ بھی شعبہ صحافت کی طرف آگئے پشاور یونیورسٹی سے انہوں نے ارضیات (GEOLOGY) کے مضمون میں ماسٹرز ڈِگری حاصل کی لیکن اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صحافت کے شعبے سے منسلک ہوئے میں نے انہیں انگریزی روزنامہ خیبر میل میں کام کرتے دیکھا پشاور سے باہر کچھ انگریزی روزناموں کے نمائندہ خصوصی کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے بعد میں وہ پاکستان پریس انٹرنیشنل (PPI)کے لئے کام کرتے رہے بہت ذہین اور قابل صحافی سمجھے جاتے تھے اور ایسانظر آتا تھا کہ وہ انگریزی صحافت میں بہت نام پیداکرینگے اور ایسا ہی ہوا انگریزی صحافت کے روشن ستارے کے طور پر کامیابیاںسمیٹتے رہے ان کی چار دہائیوں سے زیادہ کی صحافتی زندگی خود ایک بڑی داستان ہے بہر حال شاہین صہبائی نے PPIمیں ذمہ داریاں سنبھالیں تو پی پی آئی کے کرتا دھرتا معظم علی صاحب تھے اور ن کے بھائی اسلم علی بھی ان کے ساتھ شریک سفر تھے اسلم علی صاحب نے ہفت روزہ اخبار جہاں کے مقابلے کا ایک ہفتہ روزہ پیمان شروع کیا۔
اس ہفت روزہ پیمان کے لئے صوبہ سرحدمیں نمائندگی کے لئے میری تقرری عمل میں لائی گئی میری ذمہ داریوں میں ہر ہفتے صوبے کی سیاسی ڈائری لکھنے کے علاوہ سیاسی شخصیات کے انٹریوز کرنا شامل تھا میں نے ہر ہفتے سیاسی ڈائری لکھنا شروع کی اور اس کے ساتھ ہی سیاسی انٹرویوز بھی اس ہفت روزہ کے لئے میں صوبہ سرحد کے وزیراعلےٰ مولانا مفتی محمود وزیراعلیٰ عنایت اللہ گنڈاپُور گورنر ارباب سکنہ رخان خلیل ، اسپیکر سرحد اسمبلی محمد حنیف خان صوبائی وزیراطلاعات لالہ افضل خان صوبائی وزیر اطلاعات سید مزمل شاہ صوبائی وزیر تعلیم امیرزادہ خان اسوقت کی نیشنل عوامی پارٹی خان عبدالولی خان قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر حنیف خان کا ذکر ضروری سمجھتاہوں۔مولانا مفتی محمود نے جب صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھایا تو میں بھی اس تقریب میں موجود تھا تقریب حلف برداری کے بعدمجھے مولانا مفتی محمود صاحب کا بہت تفصیلی انٹرویو کرنے کا موقع مل گیا اس انٹرویو میں انہوں نے دوسری بہت سی باتوں کے علاوہ صوبائی خود امختاری کے ۔موضوع پرکھل کر اظہار خیال کیا جیسے ہی انٹرویو پیمان میں مشائع ہوا تو مولانا صاحب کا خود مختاری کے سلسلے میں اظہار خیال پریس میں کلک کر گیا ڈان اور جنگ جیسے بڑے اخبارات نے اس انٹرویو کو سامنے رکھ کر اپنے اخبارات میںتفصیلی اداریئے تحریر کیئے جو میرے لئے باعث اعزاز بات تھی۔اس کے علاوہ ہفت روزہ پیمان نے سیاسی انٹرویوز کے ساتھ ساتھ سیاسی شخصیات کے ساتھ ایک دن گزارنے کا سلسلہ بھی شروع کیا یہ ایک نہایت ہی دلچسپ سلسلہ تھا مجھے اسوقت کے صوبائی وزیر اطلاعات سید مزمل شاہ اور اسپیکر سرحد اسمبلی محمد حنیف خان کے ساتھ پورا دن گزارنے اور تمام دن کی مصروفیات کوقلمبند کرنے کا موقع ملا ان شخصیات کی تمام سرکاری سیاسی اور سماجی مصروفیات کو صبح سے شام تک کی ہوتی تھیںاحاطہ تحریر میں لایا جاتا تھا۔
