آئین نیوز :نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ اسے کبھی سورج کی روشنی نہیں نصیب ہوگی۔انہوںنے کہاکہ 15 مارچ کا صدمہ اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوسکتا تاہم مجھے امید ہے کہ آج کا دن وہ آخری دن ہے جس میں ہم اس دہشت گرد کا نام سنیں گا۔
انہوں نے کہا کہ وہ پوری زندگی کیلئے مکمل خاموشی کا مستحق ہے۔انہوں نے متاثرین کے لواحقین کی تعریف کی جنہوں نے رواں ہفتے عدالت میں جذباتی بیانات دیتے ہوئے برینٹن ٹیرنٹ کو بغیر کسی پیرول کے عمر قید کی سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ میں اپنی مسلم برادری کی قوت کو تسلیم کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے گزشتہ دنوں عدالت میں اپنی باتیں کہیں، آپ نے 15 مارچ کے خوفناک واقعے اور اس کی وجہ سے ہونے والے درد کو دوبارہ زندہ کیا۔
انہوںنے کہاکہ تکلیف کسی بھی طرح دور نہیں ہوگی تاہم مجھے امید ہے کہ اس سارے عمل کے دوران آپ نے اپنے آس پاس نیوزی لینڈ کی ہمدردی کو محسوس کیا ہو گا اور مجھے امید ہے کہ آئندہ بھی آپ کو یہ محسوس ہوتا رہے گا۔
وزیر اعظم نے کہاکہ امید ہے آج کے بعد نیوزی لینڈ میں ایسا دہشتگردی کا کوئی واقعہ سننے کو نہیں ملے گا ۔ڈپٹی وزیر اعظم ونسٹن پیٹرز نے بغیر کسی پیرول کی عمر قید کی سزا کا خیر مقدم کرتے ہوئے آسٹریلین حکومت سے مطالبہ کیاکہ وہ اس دہشتگردی کو واپس لیں انہوںنے کہاکہ دہشتگردی کو اس ملک میں واپس کر نا چاہیے جس نے اس کی پرورش کی ہے ۔
نہوںنے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ آسٹریلیا ہوم افیئرز منسٹر پیٹر ڈٹن اپنے اس دہشتگرد کو آسٹریلیا لے جائیں اور اپنی باقی زندگی آسٹریلیا کی جیل میں گزاریں انہوںنے کہاکہ مسلم کمیونٹی اور دیگر نیوزی لینڈ کے لوگوں نے دہشتگرد کی سکیورٹی پر پہلے ہی بہت نقصان اٹھایا ہے اور اب ہم مزید نقصان نہیں اٹھا سکتے ۔