عالمزیب خان
۔
جب سے پاکستانی سیاست کے ابجد سے تھوڑی بہت شناسائی ہوئی ہے تب سے سنتے
آرہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان اور چودھری شجاعت حسین دونوں زیرک سیاستدان
ہیں۔ اور ظاہر ہے ہر دور میں کوئی نہ کوئی زیرک سیاستدان کا ہونا ضروری ہوتا
ہے۔ اب اگر اس دور میں نواب ذادہ نصراللہ مرحوم میسر نہ ہو توکسی نہ کسی کو
زیرک تو ماننا پڑیگا۔
پھچلے مہینے کے آخری ہفتے جب مولانا صاحب اپنے لاؤ لشکر سمیت آسلام آباد
کیطرف ہولیے اوریہاں پہنچ کرمارچ کو دھرنے مین بدل ڈالا تو ایک پل میں ہمیں
مولانا فضل الرحمان صاحب محمود غزنوی لگنے لگے۔ کہ بس پندرہ حملے (ملین
مارچ) پہلے کر چکے ہیں۔ سولواں حملہ یہ مارچ اور سترہ واں حملہ یعنی یہ دھرنہ
اس حکومت کو کچھ ہی دنوں کا مہمان بنا کے چھوڑیگا۔ اوپر سے مولانا صاحب کی
سیاسی فراست سے بھرپور خطابات اور زیرک سوچ اور پھر کیا مفتی کفایت آللہ، کیا
مفتی شکور، کیا غفور حیدری صاحب، ایک سے بڑھ کر ایک شعلہ بیان، روز ٹی وی
پر بیٹھ کر یہی دعوے کر رہے تھیں کہ یہ حکومت بس چند دنون کی مہمان ہے۔
یہ کاری گری دیکھ کر ہمیں بھی خوشی اور خوف کے اثرات نے ایک ساتھ گیر لیا۔
خوشی اس وجہ سے کہ چلو اچھا ہے دیر سے لیکن پورے ایک سال بعد کوئی
اپوزیشن جماعت تو سامنے آگئی۔ اور مولانا صاحب کےذاتی مفادات چاہے جو بھی ہو
وہ اس دھرنے کی بدولت اس حکومت کو مجبور کردیںگے کہ وہ اس ہوشربا مہنگائی
کو لگام ڈال دیں، عام آدمی کے مشکلات میں کمی کر دیں، حکومت آیندہ انتخابات میں
جمہوری اصلاحات کا وعدہ کریں اور سب سے بڑھ کر یہ مطالبہ کہ حکومت بیڈ
گورنس کو گڈ گورنس کیطرف لیجائے۔
اور خوف اسلئیے کہ کہی مولانا صاحب اس حکومت کی بساط ہی نہ لپیٹ لے۔ کیونکہ
مولانا صاحب کے پہلے دو مطالبات (وزیر آعظم کا استعفیٰ اور فوری انتخابات) بہت
سارے لوگوں کے سمجھ سے بالاتر تھیں۔
لیکن یہ کیا مولانا صاحب جس برق رفتاری سے ائے تھے اُس سے زیادہ رفتار سے
چھو منتر ہوگئے۔ مگر اب کی بار مولانا کی سیاسی بصیرت کو پرکھنا سمجھ سے
بالاتر ہے۔
پہلی بات تو یہ کہ مولانا اگر استعفیٰ لینے آئے تھے تو جو چیز عمران خان کو 126
دن دھرنے کے بعد بھی نہیں ملی مولانا کو کیونکر ملتی۔ دوسری بات مولانا کو کیسے
یہ اندازہ نہیں ہوا کہ عمران خان دھرنے کے ابتدائی دنوں میں وِن وِن پوزیشن میں
تھے لیکن میں نہ مانوں کے رٹ کی وجہ سے آخر میں اُنھیں کچھ نہیں ملا۔ یہی
غلطی مولانا نے بھی دہرائی کیونکہ دھرنے کے شروع کے دن مولانا کا یہی بیان کہ
‘ جب بھی آنا ہو استعفیٰ ساتھ لیکر آنا، کیوجہ سے بظاہر مولانا صاحب کے ہاتھ کچھ
نہیں آیا۔
مگریہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مولانا صاحب کو تو کچھ نہ ملے اور باقی سب فیضیاب
ہو۔ مثلاَ مسلم لیگ کو میاں صاحب کی صورت میں ریلیف ملا، پیپلز پارٹی کو ریلیف
کی اُمید ملی، حکومتی اتحادیوں کو بولنے کیلئیے زبان ملی اور عوام کو متابدل
اپوزیشن ملی۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت پچھلے 15 ماہ میں پہلی بار بھڑتی ہوئی
مہنگائی کے مسئلے کو سنجییدگی سے لے رہی ہے اور وزیر آعظم عمران خان نے
اپنے کابینہ کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ آیندہ تین مہینوں میں مہنگائی کے مسئلے
پر قابو پالے۔
دوسری طرف بظاہر یہ حکومت کی بڑی کامیابی تھی کہ مولانا کا دھرنا پُر امن
طریقے سے اختتام کو پہنچا، لیکن حکومت کو پسِ پردہ کچھ نہ کچھ خمیازہ
ضروربھگتنا پڑا۔ جس میں سب سے اہم حکومت کے اتحادیوں کا میڈیا پر آکرپی ٹی
ائی حکومت (جس کا وہ خود بھی حصہ ہیں) پر کھل کر تنقید کرنا شامل ہے۔
لیکن ان سب سے ہٹ کر، عمران خان اوراس کی حکومت کو سب سے بڑا نقصان یہ
ہوا، کہ دھرنے کے فوراَ بعد پوری سیاسی فضا بدل گئی، اور پل جھپکتے ہوئے اتنا
کچھ ہوا جس کا کسی کو شاید گمان بھی نہیں تھا۔ اور جو ہوا یا ہورہا ہے سب کے
سامنے ہے۔ بدقسمتی سے جب بھی چوہدری برادران میدان میں اُترتے ہیں تو یا کوئی
نئی پارٹی بنتی ہے یا کوئی پرانی پارٹی ٹوٹتی ہے۔
اب عمران خان اور اُس کی کابینہ کی خدمت میں عرض ہے کہ اگر اس بحرانی کیٖفیت
سے باہر نکلنا ہے تو حقیقت پسندانہ سوچ اپنا کر گڈ گورننس پر بھرپور توجہ دیدیں۔
کیونکہ اس حکومت کا سب سے بڑا المیہ گورننس ہی کا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں
کہ موجودہ مہنگائی کی ایک بڑی وجہ آئی ایم ایف کے سخت شرائط، ڈالر کی
اُڑان،شرح سود میں اضافہ، کچھ درآمدی آشیا کی پابندی وغیرہ بھی ہے، لیکن جو چیز
اگر ایک یا دو روپے مہنگی ہونی چاہیے تھی وہ دس اور بیس روپے مہنگی ہو جائے
تو ہر عام و خاص یہی سوال کریگا کہ کہاں ہے حکومت کی رِٹ۔ کہاں ہیں آپ کا
سرکاری عملہ؟ کسی فوڈ انسپکٹر کا کسی ذخیرہ اندوز پے چھاپا؟ کسی فوڈ کنٹرولر، یا
کسی وزیر، مشیر کا ہنگامی دورہ کہ کسی ذخیرہ اندوز کو قابو کر لیں؟ یا کسی اتوار،
جمعہ بازار یا منڈی میں اتنا تو پوچھے کہ بھائی آخر ایک ہی مارکیٹ میں ایک ہی
مال کا مختلف ریٹ کیوں چل ریا یے؟ اور یہ سب اسلئیے ضروری ہے کہ عام لوگوں
کا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہی ہے۔
اور اگر حکومت جیسے ہے ویسے ہے کے بنیاد پر چلتا رہے تومولانا صاحب تو
کشمیر کمیٹی سے ھاتھ دھونے کے بعد بہت کچھ گنوا بیھٹے اور آخر میں کشمیر ہائی
وے پر پہنچ ہی گئے، لیکن اپنی سیاسی سفر کی جو اننگز اُنھوں نے کشمیر ھائی وے
سے دوبارہ شروع کی ہے ایسا نہ ہو یہ اننگز اس حکومت اور بہت سارے اوروں کو
کشمیر ھائی وے سے دور کسی پرانی سڑک پر پینچا دیں۔