198

مختص کوٹہ ‘ میرٹ لسٹ میں نظر انداز کرنے پر جواب طلب


پشاورہائیکورٹ نے ضلع مہمند میں میڈیکل کیلئے مختص کوٹہ پرٹیسٹ کے بعد حتمی میرٹ لسٹ میں نظراندازکرنے اور اہلیت نہ رکھنے والے طلبہ کوبھی شامل کرنے کیخلاف دائر رٹ پرڈپٹی کمشنر مہمنداور وائس چانسلر خیبرمیڈیکل یونیورسٹی وغیرہ سے جواب طلب کرلیا

جبکہ ڈپٹی سیکرٹری کوآرڈینیشن ہوم اینڈ ٹرائبل آفیئر کودرخواست گزاروں کی میرٹ لسٹ کیخلاف اپیلوں کو نمٹاکررپورٹ بھی آئندہ سماعت پر پیش کرنیکا حکم دے دیا۔جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس عتیق شاہ پر مشتمل دورکنی بنچ نے امین الرحمان یوسفزئی ایڈوکیٹ کی وساطت سے رفیع اللہ وغیرہ کی رٹ پر سماعت کی جس میں میرٹ لسٹ میں شامل طلبہ کو بھی فریق بنایاگیاہے۔

رٹ میں موقف اپنایاگیا ہے کہ درخواست گزاروں نے ایف ایس سی کے بعد ایم بی بی ایس /بی ڈی ایس میں داخلوں کیلئے نیشنل میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ میں حصہ لیا اور80اور80فیصد سے زائد نمبرحاصل کئے،دوران سماعت امین الرحمان ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ اگرچہ ضلع مہمند کیلئے مختص کوٹہ سیٹوں میں اضافہ کیا گیا تاہم میرٹ لسٹ میں ایسے طلبہ کو بھی شامل کیا گیاہے

جو اہلیت نہیں رکھتے تھے جن میں ڈومیسائل کی تصدیق نہ ہونے والے اورقومی شناختی کارڈزمیں بعد میں مہمند کا پتہ درج کرنے والے امیدواربھی شامل ہیں اوراسکے خلاف درخواست گزاروں نے 15فروری اور16فروری 2021کو باقاعدہ اپیلیں جمع کیں تاہم انکی اپیلوں پر شنوائی نہ ہونے پر عدالت عالیہ سے رجوع کیاگیا۔دورکنی فاضل بنچ نے دلائل مکمل ہونے پر ڈپٹی کمشنر مہمند اوروائس چانسلر کے ایم یو کونوٹسز جاری کردیئے جبکہ ڈی سی کوآرڈینیشن ہوم اینڈ ٹرائبل آفیئرزکو احکامات دیئے کہ درخواست گزارو ں نے فائنل میرٹ لسٹ کیخلاف جواپنے اعتراضات جمع کئے تھے انہیں قانون کے مطابق نمٹا کر اگلی تاریخ پر عدالت کورپورٹ پیش کی جائے۔بعدازاں عدالت نے سماعت ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں